تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 599
جاتی تھیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کے جومعنے لئے ہیں منفرداًلئے ہیں۔سیاق وسباق کے لحاظ سے نہیںلئے۔اورقرآن کریم کے ایک بطن کے لحاظ سے وہ بھی درست ہیں۔اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔اس لئے ایک ایک آیت کے کئی معنے کئے جاسکتے ہیں جو اپنے اپنے رنگ میں سب کے سب درست ہوں گے۔ایک معنے منفرد آیت کے ہوتے ہیں۔ایک معنے کئی آیتوں کے تسلسل کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔ایک معنے پوری سورۃ کے تسلسل کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔ایک معنے کئی سورتوں کے تسلسل کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔اورایک معنے سارے قرآن کریم کے تسلسل کے لحاظ سے ہوتے ہیں اوروہ سارے معنے ہی صحیح ہوتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے اس آیت کے جو معنے کئے ہیں وہ انفرادی لحاظ سے کئے ہیں اورآپ نے یہ ثابت کیاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد سوسائٹی میں شریف اور معزز سمجھے جاتے تھے اورسوسائٹی کے قوانین کے پابند تھے۔گویاعرب کی سوسائٹی کے لحاظ سے جن خاندانوںکو شرفاء کے خاندان قرار دیاجاتاتھا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاخاندان نہایت شریف تھا۔چنانچہ اس فرق کو قرآن کریم نے بھی اتنا تسلیم کیاہے کہ اہل کتاب کے ہاتھ کا کھاناجائز قرار دیاہے اورمشرک کے ہاتھ کا کھاناناجائز قرار دیاہے۔حالانکہ اہل کتاب شراب بھی پیتے ہیں اورسؤرکاگوشت بھی کھاتے ہیں اوران کے مقابلہ میں مشرکین میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جوسؤر نہیں کھاتے (یہاں مشرک کے معنے یہ ہیں کہ وہ جو کسی کتا ب کو ماننے والانہ ہو۔یہ نہیں کہ جو اہل کتاب ہو وہ شرک کرتاہی نہیں۔باریک معنوں کی روسے تواہل کتاب بھی مشرک ہوتے ہیں اوردہریہ بھی مشرک ہوتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں مشرک کا اَورمفہوم ہے او رعرف عام میں مشرک کا اَور مفہوم ہے۔قرآن کریم نے اہل کتاب ان کو قرار دیاہے جوکسی کتاب کے قوانین کو مانتے ہیں چاہے وہ ان قوانین پرعامل نہ ہوں۔ان کاقوانین کو تسلیم کرنا ہی ان کو اہل کتاب کانام دینے کے لئے کافی ہے۔جیسے بہت سے مسلمان بھی قرآن کریم کے احکام پر نہیں چلتے مگروہ کہلاتے مسلمان ہی ہیں)بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے کھانے کو اس لئے جائز قرار دیاہے کہ ان میں کسی کتاب کوماننے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ اخلاق ضرور ہوں گے اورہم ان پر یہ حسن ظنی کرسکتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں سے کسی بھی کتاب میں دھوکادیناجائز نہیںاس لئے یہ دھوکادےکر ہمیں کوئی ایسی چیز نہیں کھلادیں گے جوہمارے مذہب کی روسے ناجائزہو۔لیکن جو شخص خود کہتاہے کہ میں کسی قانون کاپابند نہیں توچاہے وہ شریف ہی کیوں نہ ہو ہم اس پر حسن ظنی نہیں کرسکتے۔کیونکہ ہم یہ سمجھیں گے کہ چونکہ اس کے لئے کسی قانون کے پابند نہ ہونے کی وجہ سے دھوکایافریب کرنے میں کوئی روک نہیں