تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 597
جائے۔جس کا اسی آیت کے ساتھ تعلق ہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب ’’تریاق القلوب ‘‘میں فرماتے ہیں : ’’ ایک اورجگہ قرآن شریف میں فرماتا ہےوَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ۔الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔وَ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَیعنی خدا پر توکل کر جوغالب اور رحم کرنے والا ہے۔وہی خداجو تجھے دیکھتاہے۔جب تو دعااو ردعوت کے لئے کھڑاہوتاہے۔وہی خداجوتجھے اس وقت دیکھتاتھا کہ جب توتخم کے طور پر راستبازوں کی پشتوں میں چلاآتاتھا۔یہاں تک کہ اپنی بزرگ والدہ آمنہ کے پیٹ میں پڑا۔’’ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۸۱) یہ حوالہ چونکہ بظاہر اوپر کی تشریح کے خلاف نظر آتاہے اس لئے یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ ساجد کے لفظی معنے ایسے فرمانبردارکے ہوتے ہیں جو ہربات کو تسلیم کرتاہو اوربغاوت اورنشوز کے آثار اس میں نہ پائے جاتے ہوں۔لیکن اگر ہم گہراغور کریں توساجد کالفظ دوجگہ استعمال ہو سکتا ہے ایک مومن ساجد کے لئے اورایک سوسائٹی کے ساجد کے لئے۔مومن ساجد وہ ہو گاجو خدا تعالیٰ کی باتیں ماننے والا ہواو رخدا تعالیٰ کے قوانین سے بغاوت کرنے والا نہ ہو۔اورسوسائٹی کاساجد وہ ہوگاجوسوسائٹی کی باتیں ماننے والا ہو اور سوسائٹی کے قوانین سے بغاوت کرنے والانہ ہو۔اب ہم اس آیت کے معنوں کی طرف آتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی بطن ہیں۔ایک بطن توقرآن کریم کایہ ہے کہ کسی آیت کے معنے کرتے وقت اس کے سیاق و سباق کی تما م آیات کو دیکھاجاتاہے اوراس کے معنے سیاق و سباق کی آیات کومدنظر رکھ کرکئے جاتے ہیں۔کیونکہ اگر سیاق وسباق کو مد نظر نہ رکھاجائے تو معنوں میں غلطی کا امکان ہوتاہے۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ معنے کرتے وقت اس کے کچھ آگے آنے والی آیتوں او رکچھ پیچھے آنے والی آیتوں کودیکھاجاتاہے اوران کے معنوں میں تطابق کا لحاظ رکھاجاتاہے۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ جس آیت کے معنے مطلوب ہوں اس ساری سورۃ کو دیکھا جاتاہے۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ کئی سورتوں کو ملا کر اس کے معنے اخذ کئے جاتے ہیں۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ سارے قرآن مجید کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔اسی طرح اوربھی بعض بطن ہیں۔یہ علم اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے عطافرمایا ہے۔بعض دفعہ ایک مضمون کاتعلق ابتدائی سورتوں کے ساتھ ہوتاہے اوربعض دفعہ بعد والی سورتوں کے ساتھ۔پھر ایک معنے کسی آیت کے منفرداًہوتے ہیں اورایک معنے دوسری آیتوں کے ساتھ ملا کرکئے جاتے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیان فرمودہ معنوں کی اس جگہ کیا صورت ہے۔اس نقطئہ نگاہ سے اگر ہم غور