تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 588

طورپر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے جب وہ آپ سوال کریں گے تو کون سا مولوی انہیں کہہ سکتا ہےکہ ان کی بات نہ سنو۔اگر کوئی کہے بھی توماں کہے گی یہ میرابچہ ہے میں اس سے ایک بات پوچھ رہی ہو ںتم بیچ میں دخل دینے والے کون ہوتے ہو۔خسر کہے گا یہ میراداما د ہے میں نے اس سے ایک بات پوچھی ہے تم مجھے روکنے والے کون ہو۔اور چونکہ حق تمہارے ساتھ ہے اس لئے آخری نتیجہ یہی ہوگاکہ اللہ تعالیٰ ایک دن اس کا دل بھی کھول دے گا۔اوراسے کھینچ کر صداقت کی طرف لے آئے گا۔یہ امر یاد رکھو کہ تبلیغ کوئی وقتی چیز نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہارے ماننے والے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے اب اس کے صاف یہ معنے ہیں کہ ہمیشہ ایسے آدمی موجود رہیں گے جو حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائیں گے اورجب حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لانا قرآن کریم نے بھی ضروری قراردیاہے توجولوگ مسیح ؑ کو نہیں مانیں گے وہ قرآن کریم کو بھی نہیں مانیں گے۔پس لازماً قیامت تک کچھ ایسے لوگ موجودرہیں گے جواسلام میں داخل نہیں ہوں گے اور اگر قیامت تک ایسے لوگ موجود رہیں گے جو اسلام میں داخل نہیں ہوں گےتوان کو منوانے کے لئے تبلیغ کی بھی ضرورت رہے گی۔ہمارے ملک میں لڑکیاں ایک کھیل کھیلتی ہیں۔اب تو وہ کھیل کھیلتے میں نے لڑکیوں کو نہیں دیکھا لیکن پہلے اس کھیل کا رواج زیادہ تھا۔وہ کھیل اس طرح ہوتی ہے کہ پانچ چھ لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہوجاتی ہیں اورپانچ چھ لڑکیاں دوسری طرف کھڑی ہوجاتی ہیں۔ایک طرف کی لڑکیاں دوسری طرف کی لڑکیوں کے پاس آتی ہیں تووہ غالباً ان سے رشتہ مانگتی ہیں یاکوئی اورچیز مانگتی ہیں۔بہرحال وہ سائل بن کرآتی ہیں اوراپناسوال پیش کرتی ہیں تودوسری طرف کی لڑکیاں کہتی ہیں ہم نے نہیں دینا۔اورجب و ہ کہتی ہیں نہیں دینا توکھیل شروع ہو جاتا ہے۔ایک طرف کی لڑکیاں کہتی ہیں ’’نہیّوں دینا ‘‘اوردوسری طرف کی لڑکیاں کہتی ہیں۔’’لَے کے رہنا ‘‘اوردیر تک یہ مشغلہ جاری رہتاہے دونوں فریق اپنی ضد پر مُصر رہتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کہتاہے کہ قیامت تک کچھ ایسےلوگ موجود رہیں گے جو کہیں گے ہم نے نہیں ماننا۔پس تمہارابھی یہی کام ہے کہ تم کہو ہم نے منواکر چھوڑناہے۔تمہارا ایمان اورجذبہ بہرحال چھوٹی بچیوں سے زیادہ ہوناچاہیے۔تمہاری غیرت ان سے زیادہ ہونی چاہیے۔اگران میں سے ایک فریق کہتاہے کہ ہم نے نہیں دیناتو دوسری لڑکیاں کہتی ہیں کہ ہم نے لے کر جاناہے۔اسی طرح تمہارابھی یہ کام ہے کہ اگرکچھ ایسےلوگ ہوں جو کہیں ہم نے نہیں ماننا توتم کہو ہم نے منواکر چھوڑناہے اوراپنے اس عزم کو کبھی ترک نہیں کرنا۔