تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 587

اپنے بھائی بہنیں سالے خسر اور دوسرے رشتہ دارموجود ہیں۔تم ان کے پاس جائو اوران سے اپنے تعلقات کو وسیع کرو۔پھر تم دیکھو گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ تمہاری تبلیغ میں برکت پیداکردیتاہے۔مجھے یاد ہےمیں چھوٹاتھا اوراپنے ایک رشتہ کی نانی کے ہاں دِلّی میں ٹھہراہواتھا کہ ان کے ایک بھائی حیدرآباد دکن سے ان کے ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے ایک دن مجھے بلایا اورکہا۔میاں تمہارا اور دوسرے مسلمانوں کا آپس میں کس بات پر اختلاف ہے۔میں اس وقت زیادہ علمی باتیں تو جانتانہیں تھا۔میں نے کہا۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور دوسرے مسلمان کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔کہنے لگے۔تم کس طرح کہتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔میں نے اس پر قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ(آل عمران :۵۶)۔میں نے کہا دیکھئے اس میں صاف لکھا ہے کہ اے عیسیٰ ؑمیں تجھے وفات دوں گا اورپھر تجھے اپنی طرف اٹھا ئوں گا۔پس وفات پہلے ہے اوررفع بعد میں۔اس پر باوجود اس کے کہ وہ ستر سال کے بڈھے تھے۔کہنے لگے تمہاری باتیں تو سب معقول ہیں۔پھر مولوی کیوں مخالفت کرتے ہیں۔ہماری نانی بڑی متعصّب تھیں وہ غصہ سے کہنے لگیں کہ آگے ہی لڑکے کا دماغ خراب ہے اوراب تم اس کو اَور خراب کررہے ہو۔اب دیکھو وہ حیدرآباد دکن سے اپنی بہن کو ملنے آئے تھے اورمیں ایک چھوٹابچہ تھا۔مگر محض اس وجہ سے کہ میں ان کی بہن کا نواسہ بلکہ پڑنواسہ تھا انہوں نے مجھ سے بات پوچھ لی۔اگرایک چھوٹے بچے سے بات پوچھی جاسکتی ہے تواپنے جوان اوربالغ داما د سے اپنے خسر سے ،اپنی ساس سے ،اپنے چچا اورماموں سے کیوں دریافت نہیں کیاجاسکتا۔اورجب و ہ تم سے کوئی بات دریافت کریں گے توان کی مثال اس شخص کی سی ہوجائے گی جوکمبل کو تو چھوڑناچاہتاتھا مگر کمبل اسے نہیں چھوڑتاتھا۔کہتے ہیںکسی نہرکے کنارے دوشخص جارہے تھے سردی کاموسم تھا کہ ایک شخص نے نہر میں کمبل تیرتے دیکھا۔وہ دراصل ریچھ تھا مگر اس نے غلطی سے اسے کمبل سمجھ لیا اس نے اپنے ساتھی سے کہاکہ میں نہر سے کمبل نکال لوں تم ذراٹھہرو۔جب وہ نہر میں کودا اوراس نے کمبل پکڑناچاہا۔توآپس کی رسہ کشی سے ریچھ کے ہاتھ پائو ں جو سردی کی وجہ سے سکڑے ہوئے تھے کھل گئے او راس نے آدمی کو پکڑ لیا۔اب باہر والے نے آوازیں دینی شروع کیں کہ جلدی باہر نکلو سفر خراب ہورہاہے۔اگرکمبل ہاتھ نہیں آتا تواسے چھوڑ و۔اورباہر آجائو۔وہ کہنے لگا کہ میں تو کمبل کو چھوڑنے کے لئے تیا ر ہو ںمگرکمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔اسی طرح پہلے وہ تم سے پوچھیں گے کہ بتائیے۔آپ کے کیا اعتقادات ہیں مگر اس کے بعد تمہارے لئے تبلیغ کا ایسارستہ کھل جائے گا کہ جس پر نہ شرعی طورپر کوئی اعتراض ہوگا اورنہ قانونی