تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 586

ٹرنک پر کسی نے مرزابشیر الدین محمود احمد SON OF THE FOUNDER OF THE AHMADIYYA MOVEMENT َلکھا ہو اتھا۔میں جہاز کی سیڑھیوں سے اُتر رہاتھا کہ میں نے دیکھا کہ وہ تینوں سرپٹ دوڑے میری طرف چلے آرہے ہیں۔میں نے کہا کیا بات ہے کہنے لگے۔معاف کیجئے ہم نے بڑی بیوقوفی کی۔میں نے کہا کیا ہوا۔کہنے لگے ہم آپ سے بڑی گستاخی سے باتیں کرتے رہے۔اگر ہمیں پتہ لگ جاتا کہ آپ بانی ء سلسلہ احمدیہ کے فرزند ہیں توہم اپنے خیالات کے اظہار میں یہ ناشائستہ طریق کبھی اختیار نہ کرتے۔میں نے کہا آپ جسمانی تعلق کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں اور میرے نزدیک روحانی تعلق زیادہ اہم ہوتاہے۔بہرحال میں نے اس کا اظہار اس لئے نہیں ہونے دیاکہ میں چاہتا تھا کہ آپ کے دل میں جو اعتراضات ہیں وہ سامنے آجائیں۔توجب مذہبی بات چیت کی جائے دوسراشخص بعض دفعہ غصہ بھی نکال لیتا ہے۔برابھلابھی کہہ لیتا ہے۔لیکن اگر دل میں خشیت پیداہوجائے توپھر وہ معذرت بھی کرنے لگتاہے۔ہم نے کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جوسلسلہ کو شدید گالیاں دیاکرتے تھے۔مگر پھر وہ اخلاص کے ساتھ اس جماعت میں شامل ہوئے اورانہوں نے اپنے تعلقات کو آخر تک بڑی وفاداری سے نبھایا۔تاریخوں میں آتاہے حضر ت عمر و بن العاصؓ جب وفات پانے لگے تو انتہائی کرب کی حالت میں رونے لگ گئے۔ان کے لڑکے نے انہیں کہا کہ آپ کیوں گھبراتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام کی خدمت کی بڑی توفیق بخشی ہےاور اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہتر جزادے گا۔انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ مجھ پر دوزمانے گذرے ہیں۔ایک زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے خاندان کا اتنا بغض میرے دل میں پایاجاتاتھا کہ میں نے انتہائی نفرت کی وجہ سے کبھی آنکھ اٹھا کرآپؐ کی شکل نہیں دیکھی۔پھر خدا نے مجھے ہدایت دی اور میرے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت پیداہوگئی کہ فرطِ محبت او رعشق کی وجہ سے مجھے کبھی جرأت نہیں ہوئی کہ میںآنکھ اٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ سکوں۔چنانچہ اب اگرمجھ سے کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاحلیہ پوچھے تو میں بتانہیں سکتا۔لیکن آپؐ کی وفات کے بعد ہم سے کئی غلطیاں ہوئیں۔میں ڈرتاہوں کہ ان غلطیوںکا خدا تعالیٰ کو کیاجوا ب دوں گا ؟(مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ) تودیکھو ایک ایساشخص جس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا بغض تھاکہ وہ آنکھ اٹھاکربھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھتاتھا ایک دن اس کے دل میں اتنا عشق پیداہوگیاکہ پھر اس عشق کی وجہ سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکا۔سرسری طورپر توانہوںنے آپؐ کو دیکھا ہوگا۔لیکن پوری شکل دیکھنے کی انہیں ہمت نہیں پڑی۔پس لوگوں کی ہدایت سے مایو س مت ہو۔او راس غر ض کے لئے سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں کے پاس جائو۔تمہارے