تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 585

فرض تھا کہ وہ بار بار اپنے رشتہ داروں سے ملتے اوران کی غلط فہمیوں کودور کرنےکی کوشش کرتے مگر ادھر وہ احمدی ہوتے ہیں اوراُدھر اپنے رشتہ داروں سے بچنا شروع کردیتے ہیں۔تم اپنے آپ کو اتنا کمزور کیوں سمجھتے ہو۔تمہارے پاس ایمان ہے۔تمہارے پاس زندہ صداقت ہے تمہارے پاس تازہ معجزات اورنشانات ہیں۔تمہارے پاس خدائی تائید کے نشانات ہیں۔تمہارے اندر تواتنی دلیری ہونی چاہیے کہ اگر تمہاراکو ئی چچاایساہے جس سے تم دس سال سے نہیں ملے۔تواحمدی ہونے کے فوراً بعد اس کے پاس جائو اس سے اپنے تعلقات بڑھائو اور اُسے اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرو۔اگر تم اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرنا شروع کردو تومیں سمجھتاہوں کہ پچاس لاکھ احمدیوں کا رشتہ داراس ملک میں موجودہوگا۔پس تمہیں غیروں کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں تم اپنے پچا س لاکھ رشتہ داروں کے پا س جائواورحق ان پر واضح کرو۔یہی کام اتنا بڑاہے کہ ایک لمبے عرصہ تک تمیں اسی کام سے فرصت نہیں مل سکتی۔اور جب تم ان پچاس لاکھ کو احمدی بنالو گے توان پچا س لاکھ سے دوکروڑ اوررشتہ دار نکل آئیں گے جن کو سمجھانے کیلئے پھر تمہیں ایک لمبی جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔پس تم تبلیغ کا وہ طریق اختیار کرو جو قرآن کریم نے اس آیت میں بتایا ہے۔جب تم اپنے رشتہ داروں سے ملو گے اوران کی غلط فہمیوں کودورکرنے کی کوشش کرو گے توتم دیکھو گے کہ ان میں سے ہزاروں ہزار سعید روحیں احمدیت کو قبول کرنے کے لئے دوڑتی چلی آئیں گی اوراگر احمدیت قبول نہیں کریں گی توکم از کم سلسلہ پر اعتراض کی آئندہ انہیں جرأت نہیں ہوگی۔میں نے کئی دفعہ سنایاہے کہ جب میں حج کے لئے گیا تو میں مصر کے راستہ گیاتھا۔اصل میں میری سکیم یہ تھی کہ میں مصر میں عربی تعلیم حاصل کروں گا اوراگلے سال حج کروں گا مگر اتفاقاً قاہرہ جانے سے پہلے میں پورٹ سعید میں ٹھہر گیا۔اسی رات میں نے رؤیا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اورفرماتے ہیں کہ اگر تم نے حج کرنا ہے تو سب سے پہلے جہاز میں چلے جائو چنانچہ میں نے اسی وقت پتہ لیا اور تین چا ر دن کے بعد جو جہاز جانے والا تھا اس میں حج کے لئے سوار ہوگیا۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس کے بعد ایسے حالات پیداہوگئے کہ مصر کے لو گ ایک دوسال تک حج کے لئے نہ جا سکے۔اس سفر میں میرے ساتھ دومسلمان اورایک ہندوبیرسٹر بھی تھے۔ان کو کسی طرح پتہ لگ گیا کہ میں احمدی ہوں۔چنانچہ انہوں نے میرے ساتھ بحث شروع کردی۔مگر میں نے انہیں یہ پتہ نہ لگنے دیا کہ میں بانی ء سلسلہ احمدیہ کالڑکاہوں۔آخر بڑھتے بڑھتے انہوں نے نہایت ناشائستہ اعتراضات شروع کردیئے۔میں پھر بھی دلیل کے ساتھ ان کے اعتراضات کو ردّ کرتارہا۔گیارہ دن میں ہم پورٹ سعید پہنچے۔ہم نے اپنا بھاری سامان پورٹ سعید میں رکھوادیا جب میں گودام سے اپنا ٹرنک نکلواکر باہر نکلا۔تواتفاقاً میرے