تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 576

شفاعت کی یقینی طورپرامید کی جاسکتی ہے۔کفار نے یہ بات سنی تووہ بڑے خوش ہوئے۔چنانچہ جب آپؐ نے سورۃ ختم کی اورسجدہ کیا توسب کفار نے بھی آ پ کے ساتھ سجدہ کردیا۔کیونکہ انہوںنے سمجھا کہ آپؐ نے دین میں نرمی کردی ہے (فتح البیان قولہ تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک من رسول۔۔۔)۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیاگیاہے کہ ابن حجر ؒ جیسے آدمی بھی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔میں اس وقت اس کی تاویل میں نہیں پڑتاکیونکہ اس پر تفصیلی بحث سورئہ حج میں گذر چکی ہے۔میں صرف یہ بتاناچاہتاہوں کہ کیا واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایساہوا۔مجھے قاضی عیاض کایہ قول بے انتہا پسند ہے کہ بعض محدثین کی قلم سے شیطان نے یہ حدیث لکھوادی ہے۔گویا اگر شیطان کا تسلط تسلیم ہی کرناہے تو کیوںنہ اس کا تسلط محدثین پر تسلیم کرلیاجائے۔یہ توقاضی عیاض کا جواب ہے۔قرآنی جواب یہ ہے کہ تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجیٰ کافقرہ جہاں جہاں بیان کیا جاتا ہے۔اس کے معاً بعد یہ آیت آتی ہے کہ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى۔تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى۔اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ( النجم :۲۲ تا ۲۴)یعنی کیاتمہیں تو اپنے لئے بیٹے پسند ہیں اورخدا تعالیٰ کے لئے تم لڑکیاں تجویز کررہے ہو۔یہ تقسیم تو نہایت ہی ناقص اورظالمانہ تقسیم ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ نے ان بتوں کی تائید کے لئے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔اب بتائو کہ کیا اس فرضی کلام کے بعد جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی شخص ان آیتوں کو سن کر یہ خیال بھی کرسکتاتھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عقائد میں نرمی اختیار کرلی ہے اوراس پر کوئی بیوقوف سے بیوقو ف مشرک بھی سجدہ کرسکتاتھا۔پس یہ آیات ہی بتارہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل ہی نہیں ہوسکتے تھے جو بتوں کی تعریف میں بیان کئے جاتے ہیں۔آخر کفار عربی توجانتے تھے۔کیا وہ اتنابھی نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس سورۃ کے تولفظ لفظ میں شرک کی مذمت کی گئی ہے پھر یہ کس طرح کہاجاسکتاہے کہ آپؐ نے اپنے دینی عقائد میں نرمی اختیار کرلی ہے۔یہی مضمون زیر تفسیر آیات میں بیان کیاگیاہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا یہ الزام کہ اس شخص پر شیطان کلام نازل کرتاہے درست نہیں کیونکہ (الف)اس شخص کا اپنا چال چلن ایسااعلیٰ اورپاکیزہ ہے کہ ایسے آدمیوں کا شیطان سے کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔( ب) پھر جو تعلیم اس پر نازل ہوئی ہے وہ ایسی مطہر اورپاک ہے کہ ناپاک شیطان اس تعلیم کو اتار ہی نہیں سکتا۔آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ شیطان خو د اپنے خلاف تعلیم اتارے۔پھر جبکہ اس کلام میں شیطان کے خلاف تعلیم ہے۔تویہ کلام اس کی طرف سے کیسے نازل ہو سکتا ہے۔(ج) اس کتاب میں آسمانی علوم