تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 574

نہیں نہیں عرب کی کسی قوم کا لشکر بھی اتنا بڑا نہیں۔ابھی وہ یہ باتیں ہی کررہے تھے کہ اسلامی گار د جو پہرہ پر مقرر تھی پہنچ گئی اورانہوں نے ابوسفیان اوراس کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا(بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم الرایة یوم الفتح)۔پھر دیکھو کس طرح قرآنی پیشگوئی کے مطابق اس عذاب کو دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے جبکہ پہلے نبیوںکی قوموں میں سے اکثر ان پرا یمان نہیں لائے اوراس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے عزیز اورحیم ہونے کا ثبوت دےدیا۔پھر فرماتا ہے۔فَيَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ۔اَفَبِعَذَابِنَا۠ يَسْتَعْجِلُوْنَ۔اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِيْنَ۔ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يُمَتَّعُوْنَ۔یہ لوگ اپنی مجالس میں عذاب آنے میں دیر لگنے کی وجہ سے کہتے ہیں کہ شاید ہماراحال پہلی امتوں جیسانہیںہوگا۔شاید ہم کو ڈھیل دی جائے گی اورعذاب جلدی نہیں آئے گا۔فرمایا۔اس کے معنے تویہ ہیں کہ یہ لوگ اپنی ہنسی اور تمسخر سے ہمارے غضب کو بھڑکاناچاہتے ہیں اورعذاب بہت جلدی لاناچاہتے ہیں۔لیکن یہ اتنا توسوچیں کہ اگر ہم کچھ مد ت تک ان پر عذاب نہ بھی لائیں اوراس کے بعد ان پر عذاب آجائے توعذاب کے وقفہ کادرمیانی عرصہ ان کو کیافائدہ پہنچا سکتاہے۔فائدہ توانہیں ہدایت سے ہی پہنچ سکتاہے مگر وہ ہدایت اختیار کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کررہے۔پھر فرماتا ہے۔وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ۔ذِكْرٰى ١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۔ان لوگوںکو اتنا توسوچنا چاہئے کہ کیا کبھی ایساہواکہ ہم نے کسی بستی کو اتمام حجت کے بغیر ہلاک کردیاہو۔ہرقوم پر جب بھی عذاب آیاتاریخی شہاد ت موجود ہے کہ اس سے پہلے ایک نبی آیا جس کی بڑی غرض یہی تھی کہ انہیں سمجھائے اوربدیوں سے باز رہنے کی نصیحت کرے۔اگر بغیر اس انذار کے ہم ان لوگوں پر عذاب نازل کردیتے۔توہم لوگوں کی نگاہ میں ظالم ٹھہرتے مگرہم ایسے نہیں ہیں۔اورہم بغیر ہوشیار کرنے کے کسی قوم کو اپنے عذاب سے ہلاک نہیں کیاکرتے۔پس ان لوگوںکو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جب ان کی طرف ایک ہوشیا رکرنے والا انسان آگیاہے تواس کے انکار پر عذاب بھی ضرور آئے گا کیونکہ جس طرح ڈرانے والے کے بغیر عذاب نہیں آتا اسی طرح ڈرانے والے کے بعد اس کے انکار پر ضرورعذاب آتاہے کیونکہ اگر اس وقت عذاب نہ آئے توڈرانے والا جھوٹاقرا رپاتاہے۔ذِکْرٰیکہہ کر بتایاکہ ڈرانے والے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ لو گ نصیحت حاصل کریں۔یہ غرض نہیں ہوتی کہ لوگ تباہ ہوجائیں اسی لئے ڈرانے والے کے بعد بھی عذاب میں ڈھیل دی جاتی ہے۔تاکہ جو لو گ ایمان لا سکتے ہوں وہ ایمان لے آئیں۔اگر کسی نبی کی بعثت کے معاً بعد عذاب آجائے تونصیحت حاصل کرنے کاکوئی موقع نہیں رہتا۔