تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 563

روح القد س کا مفہوم درحقیقت فرشتہ کے لفظ میں ہی شامل ہے۔لیکن قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مزید امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ آپؐ پر روح الامین نازل ہوا۔یعنی وہ فرشتہ نازل ہوا جس کے ذمہ یہ بھی فرض تھا کہ وہ قرآن کریم کو صحیح وسالم صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائے گویا قرآن کریم کے دونوں حصوں کی حفاظت کا انتظام کر دیا گیا۔ایک طرف تو اس کے نزول میں کسی غلطی یا نسیان کا امکان باقی نہ رہا۔کیونکہ روح الامین اسے لے کر نازل ہوا اور دوسری طرف نزول کے بعد مستقل طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرما دیا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ (الحجر :۱۰) یعنی ہم نے ہی اس ذکر کو اتار ا ہے اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے۔گویا قرآن کریم کے متعلق دونوں زمانوں میں حفاظت کا انتظام کرلیا گیا۔لیکن انجیل کے دونوں زمانوں کے متعلق کوئی وعدہ نہیں۔نہ تو انجیل میں کوئی ایسی آیت ہے جس میںیہ ذکر ہوکہ جب انجیل کی وحی آئی تو رستہ میں اس کی حفاظت کا انتظام کیا گیا۔یا جب تک وہ حضرت مسیح ؑ کے دماغ میں رہی اور دنیا میں نہیں پھیلی اس وقت تک اس کی حفاظت کی گئی اور نہ کوئی ایسی آیت ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ جب مسیح ؑ نے وہ وحی لکھوا دی یا سنا دی تو اس کے بعد قیامت تک خدا تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی۔پس انجیل کی حفاظت کا ثبوت خود انجیل سے کوئی نہیں ملتا۔لیکن قرآن کریم کی مکمل حفاظت کا ثبوت خود قرآن کریم سے ہی ملتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےقلبِ مطہّر پر وحی الٰہی کے نازل ہونے تک بلکہ جب تک وہ وحی دنیا میں شائع نہیں ہوئی اس وقت تک کی حفاظت کا ثبوت اس آیت سے ملتا ہے۔اور دنیا میں شائع ہوجانے کے بعد اس کی حفاظت کا ثبوت اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ سے ملتا ہے۔گویا خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی الٰہی کے نازل ہونے کےوقت سے لے کر قیامت تک قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ موجود ہے جس کے مشابہ وعدہ بھی انجیل میں کوئی موجود نہیں۔غرض روح الامین میں یہ بتا یا گیا ہے کہ اس کلام کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر انتظام کیا گیا ہے تاکہ پہلی کتب کی طرح اس میں کوئی بگاڑ پید انہ ہو۔ورنہ ہر فرشتہ اپنی ذات میں امین ہی ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی صفت کا خاص طورپر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد اس کے خاص ظہور کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے مثلاً جہاں روح القد س کا لفظ استعمال کیا جائے وہاں اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہوگا کہ یہ کلام اپنے اندر قدوسیت کی صفت رکھتا ہے اور یہ صفت سب نبیوں کے الہام میں مشترک طورپر پائی جاتی ہے۔لیکن امین کی صفت سے جبریلؑ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ صرف آپؐ کے کلام کی حفاظت کی گئی جب کہ پہلی الہامی کتب انسانی دست بُرد کاشکار ہوچکی ہیں۔