تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 561
رشتہ داروں کو سنبھال جائیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری کی وجہ سے جب ایسی حالت کو پہنچےکہ آپ ؐ کے لئے چلنا بھی مشکل ہوگیا۔تو ایک دن آپ سہار ا لے کر مسجد میں آئے اور صحابہؓ کو اکٹھا کیا اور فرمایا۔ہر ایک انسان آخری وقت میں کوئی نہ کوئی نصیحت کرتاہے۔میں بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ یہ غلام تمہاری طرح خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور تمہارے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرنا اور جو شخص یہ برداشت نہ کرسکتا ہوکہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرے اسے چاہیے کہ انہیں آزاد کردے لیکن جو شخص ان سے کام لینا چاہتا ہو وہ جو کچھ خود کھائے وہی انہیں کھلائے جو خود پہنے وہی انہیں پہننے کو دے۔جس حالت میں وہ خود رہے اسی حالت میں انہیں بھی رکھے۔اور اگرتم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرسکتا تو اسے ان سے خدمت لینے کا بھی کوئی حق نہیں پھر فرمایا۔اے میرے صحابہؓ !عورت پر بہت بڑا ظلم ہوتا رہا ہے۔میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ تم عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور ان کے حقوق ادا کرو۔ہمیں انبیا ء سابقین کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ وہ کیسے فوت ہوئے۔صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق پتہ لگتا ہے کہ جب آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا تواگرچہ وہ ان کی وفات کا وقت نہیں تھا تاہم آپ نے آنکھیں کھول لیںاور حضرت مریم کو رنجیدہ کھڑے دیکھ کر آپ نے سمجھ لیا کہ وہ اپنے بیٹے کے مصلوب ہوجانے کے بعد اپنے کسی ولی اور نگران کی عدم موجودگی پر افسوس کررہی ہیں۔آپ نے اپنے حواری تھومسؔ سے کہا۔گو جذبات کی وجہ سے آپ اپنا فقرہ مکمل نہ کرسکے کہ اے تھومسؔ یہ ہے تمہاری ماں اور اے عورت یہ ہے تمہارا بیٹا۔جس کے یہ معنے تھے کہ میں تھومسؔپر اعتبار کرتاہوں اور اسے تمہارا بیٹا بناتا ہوں۔اور اے تھومس ؔ میں تم پر اعتبار کرتاہوں اور اسے تمہاری ماں بناتا ہوں۔یہ بڑا نیک جذبہ ہے جو حضرت مسیح ؑ کے دل میں پیدا ہوا۔مگر اس شخص کی محبت کتنی بالا ہے جو وفات کے وقت اپنے اعزاء اور اقرباء کو بھول جائے اور غریب اور مظلوم کی ہمدردی میں اپنے آخری لمحات گزاردے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے وقت اگر کسی کا خیال کیا تو وہ صرف مظلوموں ،مقہوروں متروکوں اور ان بے بس اور بے کس لوگوں کا تھا جن کی پرورش کرنے والا کوئی نہیں تھا۔پھر عین وفات کا وقت آتا ہے تو آپؐ کی زبان پر یہ کلمہ جاری ہوتا ہے کہ خدا یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے بزرگوں کی قبروں کو عبادت گاہیں بنالیا ہے(مسلم کتاب المساجد باب النھی عن بناء المساجد علی القبور) یہود اور نصاریٰ بھی موحّد تھے مگر ان میں سےجو قبروں کو سجدہ کرتے تھے۔انہیں آپؐ نے حقارت سے دیکھا اور ان سے اظہارِ نفرت فرمایا۔اس فقرے کے معنے درحقیقت یہ تھے کہ اے مسلمانو! تم کسی کو رَبّ العٰلمین نہ بنانا۔ربّ العٰلمین صرف خدائے واحد ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔پھرجب موت کا وقت اور قریب آتا