تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 560
چلے گئے تھے اور پھر شام سے دمشق جا پہنچے تھے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا۔لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے اذان دینا چھوڑ دیاہے۔کیونکہ جب بھی میںاذان دینے کا ارادہ کرتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ مبارک میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور یہ بات میری برداشت سے باہر ہوجاتی ہے۔حضرت عمرؓ بھی ان دنوں دمشق آئے ہوئے تھے۔لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ بلالؓ سے کہیں کہ وہ اذان دیں۔ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوںنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ہمارے کان ترس رہے ہیں کہ پھر بلالؓ کی اذان سنیں۔اور ہم میں وہ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں دیکھا صرف باتیں سنی ہیںوہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ اس شخص کی اذان سن لیں جس کی اذان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے بلالؓ کو بلایا اور فرمایا لوگوں کی خواہش ہے کہ آپ اذان دیں آپ نے فرمایا آپ خلیفہ وقت ہیں آپ کی خواہش ہے تو میں اذان دےدیتا ہوں۔لیکن میراد ل برداشت نہیں کرسکتا۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بلند آواز سے اُسی رنگ میں اذان دی جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے۔بلالؓ کی آواز جونہی فضا میں گونجی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کو یاد کرکے آپؐ کے صحابہؓ جو عرب کے باشندے تھے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور بعض کی چیخیں بھی نکل گئیں۔لیکن حضرت بلالؓ جو حبشی تھے جن سے عربوں نے خدمتیں لیں۔جنہیں عربوں سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا اور نہ بھائی چارے کا تعلق تھا وہ اذان ختم کرتے ہی بے ہوش ہوگئے اور چند منٹ کےبعد ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی (اسد الغابة زیر لفظ بلال بن رباحؓ)۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعویٰ پر غیر قوموں کی گواہی تھی کہ میرے نزدیک عرب اور غیر عرب میں کوئی فرق نہیں۔یہ گواہی تھی غیرقوموں کی جنہوں نے آپؐ کی محبت بھری آواز کو سنا اور اس کا اثر جو انہوں نے دیکھا اس نے انہیں اس یقین سے بھردیا کہ ان کی اپنی قوم ان سے وہ محبت نہیں کرسکتی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کی۔پھر لوگ مرتے ہیں تو اپنی تکلیف اور دکھ کی وجہ سے انہیں دوسروں کا خیال تک نہیں آتا۔کیونکہ وفات کے وقت غیر معمولی تکلیف ہوتی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے جس شخص کو وفات کے وقت زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔میں خیال کرتی تھی کہ وہ گنہگار ہے۔مگر جب میں نے آپؐ کی وفات دیکھی تو سمجھا کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ آپؐ کی نزع کی حالت نہایت تکلیف دہ تھی (بخاری کتاب المرضی باب شدة المرض)۔وفات کے وقت مرنے والوں کو عموماً یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ اپنا کام اپنے عزیزوں اور