تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 559

ہیں۔ان میں سے کوئی یونانی ہوتا ہے جیسے سہیلؓ۔کوئی حبشہ کا ہوتا ہے جیسے بلالؓ۔کوئی ایران کا ہوتا ہے جیسے حضرت سلمانؓ۔یہ لوگ آتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی یہ خواہش پیش کرتے ہیںکہ ہمیں بھی اپنی تعلیم سنائیے۔ان کے سوال کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیںفر ماتے کہ کوئی شخص اپنے بیٹوں کی روٹی کُتّوں کے آگے نہیں پھینک سکتا۔بلکہ آپؐ سمجھتے ہیں کہ جس طرح عرب قوم ہے ویسے ہی یہ لوگ بھی ہیں۔آپ فوراً انہیں تعلیم دینا شروع کر دیتے ہیں۔بلکہ دینی تعلیم دینا تو الگ رہا یہاں تک ثابت ہے کہ دو بھائی تھے جو عربی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے تھے یا بہت کم علم رکھتے تھے۔وہ صرف بائیبل جانتے تھے اور لوہا کوٹا کرتے تھے۔آپؐان دونوں بھائیوں کو اشاروں کے ساتھ تبلیغ کیا کرتے تھے۔جب آپؐ وہاں سے گذرتے تو ان کے پاس کھڑے ہوجاتے ہیں۔وہ دونوں یونانی تھے اور آپ کی باتیں نہیں سمجھ سکتے تھے۔لیکن آپؐ محبت کی وجہ سے وہاں کھڑے ہوجاتے اور ان کی باتیں سنتے۔پھر آپؐ انہیں تبلیغ کرنے لگ جاتے۔زبان تو وہ سمجھ نہیں سکتے تھے آپؐاشاروں سے انہیں تبلیغ کرتے۔مثلاً اللّٰہ کا لفظ کہہ کر آسمان کی طرف اشارہ کردیا۔آہستہ آہستہ ان دونوں کو آپؐ سے اُنس ہوتا گیا۔اور بالآخر وہ دونوں ایمان لے آئے (القرطبی زیر آیت النحل: ۱۰۳) اسی طرح بلالؓحبشی تھے۔اور حبشی غلام بنائے جاتے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے نہیں تھے جن کے نزدیک کوئی غیر قوم مقہوروذلیل ہو بلکہ آپؐ کے نزدیک سب قومیں یکساں طورپر خدا تعالیٰ کی مخلوق تھیں آپ ؐ کو یونانیوں اور حبشیوں سے بھی ویسا ہی پیار تھا جیسے عربوں سے۔یہی محبت تھی جس نے ان غیر قوموں کے دلوں میں بھی آپ کا وہ عشق پیدا کردیا جس کو عرب کے بھی بہت سے لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔پھر عرب قوم میں پیدا ہوئے اور عر بوں میں سے بھی قریش قبیلہ میں پیدا ہوئے جو دوسری عرب قوموں کو بھی حقیر اور ذلیل سمجھتا تھا۔آپؐ کو حبشیوں سے کیا جوڑ تھا۔اگر آپؐ سے کسی قوم یا قبیلہ کو محبت ہونی چاہیے تھی تووہ بنو ہاشم کو ہونی چاہیے تھی۔آپؐ سے کسی کومحبت ہونی چاہیے تھی تو قریش کو ہونی چاہیے تھی یا پھر عرب کے لوگوں کو ہونی چاہیے تھی غیرقوموں کے دلوں میں جن کی حکومتوں کو آپؐ کے لشکر وں نے تباہ کردیا تھا جن کی قومی برتری کو اسلامی سلطنت نے بے کار کرکے رکھ دیا تھا محبت ہوہی کیسے سکتی ہے۔انہیں تو آپؐ سے دشمنی ہونی چاہیے تھی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے عشق کا یہ حال تھا کہ آپؐ کی وفات کے کئی سال بعدایک دن کچھ لوگ دمشق میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے باتوں باتوں میں کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بلال ؓ اذان دیا کرتے تھے۔ہم چاہتے ہیں کہ پھر ان کی اذان سنیں۔چنانچہ انہوں نے بلال ؓ سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ سے شام