تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 555

بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ۰۰۱۹۸ یہ قرآن انبیائے بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے )۔حلّ لُغَات۔زُبُرٌ۔زَبُوْرٌ کی جمع ہے اور اَلزَّبُوْرُ کے معنے ہیں اَلْکِتٰبُ۔کتاب (اقرب) تفسیر۔حضرت موسیٰ ؑ حضرت ابراہیمؑ حضرت نوح ؑ اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کا ذکر کرنے کے بعد جو بعض مخصوص اقوام کی ہدایت کےلئے مبعوث ہوئے تھے اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ناز ل کیا گیا ہے یہ سب دنیا کو مخاطب کرکے ناز ل کیا گیا ہے۔جب کہ پہلے کلام صرف بعض خاص خاص قوموں کی ہدایت کےلئے نازل ہوئے تھے اور جب کہ وہ کلام صرف اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ثبوت تھے۔یہ کلام ربوبیت عالمین کا ثبوت ہے اور اس کلام کو رُوح الامین لے کر نازل ہوا ہے۔کیونکہ پہلے نبیوں کے کلام میں کئی قسم کی خرابیاں واقع ہوگئی تھیںاور بندوں نے اس کی حفاظت میں کوتاہی کی تھی۔پس خدا تعالیٰ نے اس روح کے ذریعہ سے جو امین ہے محفوظ طور پر یہ کلام آپ پر نازل کیا۔او رچونکہ کلام الٰہی کے پہنچانے کےلئے اس کا سمجھنا بھی ضروری تھا تاکہ لوگوں تک اس کے پہنچانے میں کسی قسم کی خرابی واقع نہ ہو اس لئے وہ کلام تیرے دل پر نازل کیا گیا ہے اور یقیناً یہ کلام پہلی کتب میں بھی مذکور ہے۔اس طرح بھی کہ ا س کے اصول ان میںپائے جاتے ہیں اور اس طرح بھی کہ ان کتابوں میں اس کی پیشگوئی موجود ہے۔قرآن کریم کو دوسری الہامی کتب پر جو فضیلتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ قرآن کریم سے پہلے ربّ العالمین کا خیال دنیا میں معین صورت میں موجود نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک ہستی کو سب دنیا کاخالق ومالک مانتے تھے مگر چونکہ ان کی تعلیم قومی تھی اور مشرکین خاص طور پر اپنے اپنے خدا الگ پیش کرتے تھے اس لئے انسانی ذہن محدود خیالات کا مرجع رہتا تھا۔اسی وجہ سے فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (الشعراء:۲۴) اےموسیٰ ؑ یہ رب العالمین کو ن ہے جس کی طرف سے مبعوث کئے جانے کاتم دعویٰ کرتے ہو۔اور پھر ڈوبتے وقت بھی اس نے کہاکہ میں ربّ بنی اسرائیل پر ایمان لاتا ہوں (یونس ع ۹)لیکن قرآن کریم نے اس خیال کو ایک معین صور ت میں پیش کیا او ر اس طرح اتحادِ بین الاقوام کی ایسی داغ بیل ڈال دی جو پہلی تعلیموں کے لحاظ سے ناممکن تھی۔بائیبل پڑھ کر دیکھ لو۔اس میں یہی دکھائی دے گا کہ ’’ خداوند بنی اسرائیل کا خدا مبارک ہے جس نے تجھے بھیجا ہے ‘‘(۱۔سموئیل باب ۲۵آیت ۳۲) ’’ خداوند اسرائیل کا خدا