تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 549
سَحَّرَ کے معنے عربی زبان میں کھانا دیئے جانے کے ہوتے ہیں۔مگر استعارۃً انہوں نے یہ الفاظ مدد دیئے جانے معنوں میں استعمال کئے ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ تجارتی قوم ہیںجو لوگ تجارت میں ہم سے بڑھ نہیں سکتے انہوں نے تجھ کو رشوت دی ہے کہ تو ہمیں ان طریقوں سے روک دے جن سے ہماری تجارت ترقی کررہی ہے۔پھر انہوں نے کہا کہمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا۔آخر تو ہمارے جیسا ایک آدمی ہے اور کیا ہے وَاِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ اور ہم تو تجھے یقیناً جھوٹا سمجھتے ہیں فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔اگر تو سچا ہے تو آسمان سے ہم پر بادل کا کوئی ٹکڑا گرادے۔یعنی اتنی شدید بارش ہو کہ بجائے اس کے کہ ہماری کھیتیوں اور باغات کا پھل بڑھے سارا ملک تباہ ہوجائے۔ہم تو تیری سچائی کا صرف یہی ایک معیا رسمجھتے ہیں۔حضرت شعیبؑ نے ان سے کہا۔میرا رب تمہا رے اعمال کو خوب جانتا ہے اور وہ جس قسم کا سلوک چاہے گا تم سے کرے گا۔مگر پھر بھی وہ اس کو جھٹلاتے ہی رہے۔آخر ان کو انہی کے میعار کے مطابق ایک سائے والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔یعنی بادوباراں کا ایسا شدید طوفان آیا کہ جس نے ملک کو تباہ کردیا وہ عذاب ایک ہولناک دن کا عذاب تھااور اس نے بعد میں اس ملک کو آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ کے لئے ایک نشان بنادیا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم نے اس عذاب کے متعلق ایک اور جگہ صَیْحَةٌ اور دوسری جگہ رَجْفَۃٌ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ سورئہ ہود میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ(ہود :۹۵)یعنی جب ہمارا عذاب آگیا۔تو ہم نے شعیب ؑ اور اس پر ایمان لانے والوں کو اپنے فضل سے بچا لیا اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کا شیوہ اختیار کیا تھا انہیں عذاب نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے ہوئے تباہ ہوگئے۔اسی طرح سورئہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ (العنکبوت :۳۸) یعنی انہوں نے شعیب ؑ کو جھٹلادیا جس کے نتیجہ میںایک ہلا دینے والے عذاب نے ان کو پکڑ لیا اور اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے کے چمٹے رہ گئے۔ان دونوں مقامات پر یہ امر بیان نہیں کیا گیا کہ آیا یہ عذاب ان پر زلزلہ کی شکل میں آیا یا کسی اور شکل میں۔مگر سورئہ شعراء میں اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کے متعلق وضاحت فرما دی کہ یہ عذاب ایک ہولناک بارش کی صور ت میں آیا تھا۔جس کے نتیجہ میں وہ اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے کے چمٹے رہ گئے۔باقی رہا صَیْحَۃ یا رَجْفَۃ کے الفاظ کا استعمال۔سو صَیْحَۃ کے معنے مطلق عذاب کے بھی ہیں اور صَیْحَۃ کے معنے ایسی تباہی کے بھی ہیں جو اچانک آجائے۔