تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 548

رَبِّيْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۸۹فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ باوجود) انہوں نے اس کو جھٹلایا۔پس ان کو سایہ کے دن والے عذاب نے آپکڑ ا (یعنی گھنے اور يَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۹۰اِنَّ فِيْ دیر پا بادلوںکے عذاب نے) وہ یقیناً ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔اس واقعہ میں ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۹۱وَ اِنَّ رَبَّكَ ایک بڑا نشان تھا اور (اسے دیکھ کر بھی ) ان کافروں میں سے اکثر مومنوں میں شامل نہ ہوئے۔لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۹۲ اور تیرا رب یقیناً غالب(اور) باربار کرم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْمُسَحَّرِیْنَ۔أَلْمُسَحَّرِیْنَ سَحَّرَ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے اور سَحَّرَہُ کے معنے ہیں اَعْطَاہٗ السَّحُوْرَ۔اس کو غذادی (اقرب)۔مفردات میں ہے سَمُّوْا الْغِذَاءَ سِحْرًا مِنْ حَیْثُ اِنَّہُ یَدِقُّ وَ یَلْطُفُ تَاْثِیْرُہٗ۔یعنی غذاکو عربی زبان میں سِحْر اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی تاثیر جسم میں بہت باریک اور لطیف ہوتی ہے۔پس مُسَحَّرِیْن کے معنے ہوں گے جن کو غذادی جائے۔کِسَفًا۔کِسَفًاکِسْفَۃٌ کی جمع ہے اور اَلْکِسْفَۃُ کےمعنے ہیں اَلْقِطْعَۃُمِنَ الشَّیْءِ کسی چیز کا ٹکڑا۔(اقرب) اَلظُّلَّۃُ۔الظُّلَّۃُ اَوَّلُ سَحَابَۃٍ تُظِلُّ۔بادلوں میں سے پہلا بادل جو زمین پر سایہ ڈالتا ہے۔(اقرب) عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ۔سَحَابَۃٍ اَظَلَّتْھُمْ فَلَجَاؤُا اِلیٰ ظِلِّھَا فَا طْبَقَتْ عَلیْھِمْ وَ اَ ھْلَکَتْھُمْ۔شعیبؑ کی قوم پر بادل آئے اور وہ قوم تو ان کو اچھا سمجھتی رہی۔لیکن ان بادلوں نے ان کو برباد کردیا۔اس کو قرآن مجید نے عَذَ ابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ سے تعبیر کیاہے (اقرب) تفسیر۔حضرت شعیب علیہ السلام کی نصائح پر ان کی قوم نے جوجواب دیا وہ یہ تھا کہ تم نے جو ہم سے ٹکّر لی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی اور تمہیںاُکسارہا ہے اور تمہیں مالی مدد دے رہا ہے تاکہ تم ہمارے خلاف ایسی باتیں کرو اور ہماری طاقت کو کمزور کردو۔