تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 51
حضرت ابوہریرہ ؓ کو ایک دفعہ نزلہ کی شکایت تھی۔انہیں کھانسی اٹھی تو انہوں نے کسریٰ شہنشاہ ایران کا رومال اپنی جیب سے نکا ل کر اُس میں تھوک دیا اور پھر بے اختیار کہنے لگے۔بَخِ بَخِ ابوھریرہ ! یعنی واہ واہ ابوہریرہ تیری بھی کیا شان ہے۔پا س بیٹھنے والوں نے جب اُن کا یہ فقرہ سنا تو چونکہ وہ لوگ حدیث العہد تھے انہوں نے دریافت کیا کہ آپ نے یہ کیا بات کہی ہے۔انہوں نے کہا ایک زمانہ مجھ پر ایسا گذرا ہے جب مجھے سات سات وقت کا فاقہ آجاتا تھا اور میں شدتِ بھوک کی وجہ سے بیہوش ہو جایا کرتا تھا۔مگر لوگ غلطی سے یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور وہ اس کے علاج کے طورپر عرب کے رسم و رواج کے مطابق میرے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے حالانکہ مجھے بھوک کی شدت کی وجہ سے غشی ہو ا کرتی تھی نہ کہ کسی بیماری کی وجہ سے۔مگر آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی برکت سے میری یہ حالت ہے کہ میں کسریٰ شہنشاہ ِ ایران کے رومال میں تھو ک رہا ہوں (بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب ما ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم و حضّ علی اتّفاق اھل العلم وما اجتمع علیہ الحرمان)۔اسی طرح ہجرت کے موقعہ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مدینہ کی طرف تشریف لے جارہے تھے تو چونکہ مکہ والوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جو شخص محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو گرفتار کر کے لے آئےگا اُسے سو اونٹنیاں انعام دی جائیںگی۔اس لئے کئی لوگ آپ کی تلاش میں ادھر اُدھر نکل کھڑے ہوئے۔اُنہی لوگوں میں سراقہ ؓبن مالک ایک بدوی رئیس بھی تھا جو انعام کے لالچ میں آپؐ کے پیچھے روانہ ہوا۔اور جب اُس نے آپؐ کو دیکھ لیا تو وہ خوشی سے پھُولا نہ سمایا اور اُس نے سمجھا کہ اب میں آپؐ کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جائوں گا مگر اللہ تعالیٰ اُسے اپنا نشان دکھانا چاہتا تھا۔جب وہ آگے بڑھا تو اچانک اُس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ زمین پر گر گیا۔سراقہ ؓ جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ خود اپنا واقعہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ جب میں گھوڑے سے گرا تو عرب کے قدیم دستور کے مطابق میں نے اپنے تیروں سے فال لی کہ مجھے آگے بڑھنا چاہیے یا نہیں۔اور فال یہ نکلی کہ آگے نہیں بڑھنا چاہیے مگر انعام کی لالچ کی وجہ سے میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کے پیچھے دوڑا۔جب میں آپ کے اورقریب پہنچا تو پھر میرے گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور میں نیچے گِر گیا۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ ریت میں گھوڑے کے پائوں اتنے دھنس گئے تھے کہ اُن کا نکالنا میرے لئے مشکل ہو گیا۔آخر میں نے سمجھ لیا کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے۔چنانچہ میں یا تو آپؐ کو گرفتار کرنےکے لئے آیا تھا اور یا خود آپ ؐ کا عقیدت مند اور شکار بن کر نہایت ادب کے ساتھ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور میں نے عرض کیا کہ میں اس ارادہ کے ساتھ آیا تھا مگر اب میں نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا ہے۔اور واپس جا رہا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ