تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 544
سے پہلے بھی کئی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔پھر کیوں تم ان کی ہلاکت اور بربادی سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کیوں ان کے زوال کے اسباب پر غور کرکے اپنے اندر تغیّر پیدا کرنیکی کوشش نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ قومیں دنیا میں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں۔اورجب سے دنیا چلی آرہی ہے اُسی وقت سے یہ سلسلہ بھی چلا آرہا ہے۔ہزاروں قوموں کی تباہی اور ہزاروں قوموںکی ترقی پر تاریخ کے اوراق شاہد ہیں مگر تاریخ کے تمام واقعات بحیثیت مجموعی انسانی زندگی کے واقعات کا سوواں حصہ بھی نہیں ہیں۔وہ زمانہ جو تاریخی کہلاتا ہے اس سے بھی مدتوں پیشتر انسان دنیا میں موجود تھا۔اورپھر جو زمانہ تاریخی کہلاتا ہے اس کا بھی اکثر حصہ ایسا ہے جس کی تاریخ محفوظ نہیں۔مگر وہ زمانے جن کی تاریخ محفوظ ہے اور وہ زمانے جن کی تاریخ محفوظ نہیں ان دونوں قسم کے زمانوں میں ہزاروں قومیں بگڑتی اور بنتی چلی گئیں۔ہزاروں قوموں نے پہلے بامِ رفعت تک رسائی حاصل کی اور پھر زوال پذیر ہوگئیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکا رنہیںکیا جاسکتا۔یا یوں کہنا چاہیے کہ جس طرح انسانی پیدائش کا انکار نہیںکیا جاسکتا اور جس طرح انسانی موت کا انکار نہیں کیا جاسکتا اسی طرح قوموں کی پیدائش اور ان کی موت کا بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔مگر جس طرح بنی نوع انسان ہر روز موت کا مشاہدہ کرنے کے باوجود موت بھلادیتے ہیں۔اسی طرح قومیں بھی دوسری قوموں کے تنزل کو دیکھنے کے باوجود اس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔قرآن کریم نے اس مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔اور سورئہ فاتحہ سے لے کر سورئہ والناس تک سارا قرآن کریم ان بیانات سے بھر اپڑا ہے کہ قومی ترقی کے کیا گُر ہیں۔بیشک اور بھی بہت سے مضامین قرآن کریم میںبیان کئے گئے ہیں۔اس کے اندر عقلی مضامین بھی بیان کئے گئے ہیں اور علمی بھی۔روحانی مضامین بھی بیان کئے گئے ہیںاور جسمانی بھی۔اقتصادی مضامین بھی بیان کئے گئے ہیں اور سیاسی بھی۔غرض سینکڑوں اور ہزاروں مضامین اس کے اندر بیان ہوئے ہیں لیکن سورئہ فاتحہ کی ابتداء ہی ایسے رنگ میں کی گئی ہے کہ اس میں قومی ترقی اور تنزل سے تعلق رکھنے والے تمام اصول بیان کردیئے گئے ہیں۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے چھوٹے چھوٹے چشموں سے دریا پھوٹتے ہیں تو ایک کوتاہ اندیش انسان چشمہ میں سے نکلتے ہوئے دریا کو دیکھ کر یہ سمجھنے لگ جاتاہے کہ یہ چھوٹاسا نالہ چند گز یا چند فرلانگ تک جاکر ختم ہوجائےگا یا خشک ہوجائے گا کیونکہ اس کی آنکھ صرف چشمہ میں سے پھوٹتے ہوئے دریا کے اس پاٹ پر ہی ہوتی ہے جس پر سے وہ اگر چھلانگ مار کر اس کے پار جانا چاہے تو بڑی آسانی کے ساتھ جاسکتا ہے۔لیکن جب وہ اس چھوٹی سی نالی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے تو وہ یہ دیکھ کرحیران ہوجاتا ہے کہ اب یہ نالی نالے کی صورت اختیار کررہی ہے۔تھوڑی دور اور آگے جاکر وہ اور بھی متعجب ہوتا ہے کہ وہ نالہ ایک نہر کی شکل اختیار