تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 542
برکت کا موجب ہوتاہے لیکن اگر وہ روپیہ انسان کے ایمان کو باطل کردیتا ہے اوروہ بے ایمانوں جیسی چالاکیاں کرنے لگ جاتا ہے اور چوروں اور ٹھگوں کی طرح لوگوں کو لوٹتا ہے۔مثلاً بلیک مارکیٹ شروع کردیتا ہے۔مقررہ نرخ پر چیز فروخت نہیں کرتا بلکہ چیز کی موجودگی سے ہی انکار کردیتا ہے لیکن اگر اسے کوئی چوری چُھپے حسب منشاء دام دے دے تو وہ فوراًاُسے مہیا کردیتاہے تو وہ روپیہ اس کے لئے عذاب کا باعث بن جاتاہے۔اس قسم کے ناجائز منافع خوروں کی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے جیسے کہتے ہیںکہ کسی حریص آدمی کے پاس ایک مرغی تھی جو روزانہ سونے کا ایک انڈہ دیا کرتی تھی۔اس کے دل میں لالچ پیدا ہوا کہ اگر میں اسے زیادہ کھلائوں تو شاید یہ دو انڈے دینے لگ جائے۔چنانچہ اس نے مرغی کو پکڑکر اس کا منہ کھول کر روزانہ اسے زیادہ سے زیادہ دانے کھلانے شروع کردیئے۔اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ مرغی بیمار ہو کرمرگئی۔اوروہ ایک انڈے سے بھی محروم ہوگیا۔اس قسم کے ناجائز منافع خور بھی روپیہ جمع کرتے جاتے ہیں مگر ایک دن آتا ہے جب کسی نہ کسی رنگ میں انہیں اپنی اس بددیانتی کاخمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔فوری نقصان تو اس رنگ میں پہنچ جاتا ہے کہ جب وہ کسی شخص کو ایک سیر چیز دینے کی بجائے پندرہ چھٹانک دیتے ہیں اور وہ گھر جا کر اس کا وزن کرتا ہے تو اسے پتہ لگتا ہے کہ دوکاندار نے اسے ایک چھٹانک چیز کم دی ہے تو وہ آئندہ کے لئے اس سے سودا لینا بند کردیتا ہے۔اس طرح بظاہر تو اسے ایک چھٹانک کا نفع ہو اتھا لیکن اسے نقصان ہزار چھٹانک کا ہوگیا۔کیونکہ وہ آئندہ کےلئے اس کی دوکان پر نہیں آئے گا۔اور کسی دوسرے سے سودا خریدنا شروع کردے گا۔یہ خیال کہ صرف بے ایمانی سے ہی روپیہ کمایا جاسکتا ہے اوَل درجہ کا احمقانہ خیال ہے۔صحابہؓ کودیکھ لو وہ ہرامر میں دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔مگر اس زمانہ میں حضرت عبدا الرحمٰن بن عوفؓ کی وفا ت کے بعد ان کا بچا کھچا روپیہ دوکروڑ نکلا۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ دین کے لئے بہت قربانی کرنے والے تھے لیکن اس کے باوجو د ان کے پاس دوکروڑ روپیہ بچ گیا تھا۔جو آج کل کے دو ارب کے برابر ہے۔اسی طرح تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص گھوڑے کو فروخت کرنے کے لئے بازار میں لایا اوراس نے کہا کہ اس کی پانچ سو درم قیمت ہے۔ایک صحابی ؓ نے اس گھوڑے کو دیکھا اور اسے پسند کیا اور کہا کہ میں یہ گھوڑا لیتا ہوں۔مگر اس کی قیمت میں پانچ سو درم نہیں بلکہ دو ہزار درہم دوں گا۔کیونکہ یہ گھوڑا نہایت اعلیٰ قسم کا ہے اور اس کی قیمت اتنی تھوڑی نہیں جتنی تم بتاتے ہو۔اس پر گھوڑ ا بیچنے والا اصرار کرنے لگا کہ میں پانچ سو درہم لوں گا اور گھوڑا خریدنے والا اصرار کرنے لگا کہ میں دوہزار درہم دوںگا۔ایک کہتا کہ تجھے گھوڑے کی پہچان نہیں یہ گھوڑا زیادہ قیمت کا ہے اور دوسرا کہتا کہ میں صدقہ لینا نہیں چاہتا۔