تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 541

سے کہہ دے کہ میں تمہیں بددیانتی نہیں کرنے دوںگا۔اگر اس کے بھائی دوکاندار ہیں تو وہ اپنے بھائیوں سے کہہ دے کہ میں تمہیں بددیانتی نہیں کرنے دوں گا۔اگر اس کے دوست اور رشتہ دار دوکاندار ہیں تو وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کہہ دے کہ میں تمہیں بددیانتی نہیں کرنے دوںگا۔اگر اس کی بیوی دوکان کرتی ہے تو وہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ میں تمہیں بددیانتی نہیںکرنے دوںگا۔اور اگرتم باز نہ آئے اور اصلاح نہ کی تو میں تمہارے خلاف کھڑا ہوجائوں گا۔اگر ہر شخص اس بات کا تہیہ کر لے کہ میں نے بددیانتیوں کا مقابلہ کرنا ہے تو ایک گھنٹہ کے اندر اندر اس عیب کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اگر تمہار ا بھائی تاجر ہے اور وہ بددیانتی کرتا ہے۔اگر تمہارا باپ تاجر ہے اور وہ بددیانتی کرتا ہے اگر تمہاری ماں تاجر ہے اور وہ بددیانتی کرتی ہے اگر تمہاری بیوی تاجر ہے اور وہ بددیانتی کرتی ہے تو یہ بددیانتی اس وقت تک پنپ سکتی ہے۔جب تک ان کو یقین ہے کہ تم ان کی محبت کی خاطر ان کی بالا افسروں کے پاس رپورٹ نہیں کروگے۔لیکن جب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ تم ان کی محبت کی پرواہ نہیں کرو گے اور تم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر وہ بددیانتی سے بازنہ آئے تو تم ان کی رپورٹ کرو گے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے منٹ میں بددیانتی کریں۔باپ کہے گا بیٹا پچھلا قصور جانے دو آئندہ میں کبھی بددیانتی نہیںکروں گا۔بھائی کہے گا پچھلا قصور معاف کرو آج سے میں باز آیا بیوی کہے گی۔اب یہ قصور معاف کردو آئندہ میںایسی حرکت نہیں کروں گی۔پس قوم کی اصلاح تمہارے ہاتھوں میں ہے۔بیٹے کی اصلاح باپ کے ہاتھ میں ہے۔باپ کی اصلاح بیٹے کے ہاتھ میں ہے۔بھائی کی اصلاح بھائی کے ہاتھ میں ہے۔بیوی کی اصلاح خاوند کے ہاتھ میں ہے۔اور ماں کی اصلاح بیٹوںکے ہاتھ میں ہے۔اگر تم اس طریق کو استعمال کرو تو چند دن نہیں بلکہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر ساری قوم کی اصلاح ہوسکتی ہے۔لیکن اگر تمہارا دوست دیکھتا ہے کہ وہ بددیانتی کرے گا۔تو تم اس پر پردہ ڈالو گے اور جھوٹ بولو گے توتم اس کو بھی تباہ کرتے ہواور آپ بھی تباہ ہوتے ہو۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی جماعت روپے سے زندہ نہیں رہ سکتی بلکہ ایمان سے زندہ رہتی ہے اگر روپیہ ہی اصل چیز ہو تو یہودیوں ،عیسائیوں ،پارسیوں اور ہندوئوں کے پاس مسلمانوں سے بہت زیادہ روپیہ ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کا ساتھ کیوں چھوڑ دیا۔اس لئے کہ ایما ن کا روپے سے کو ئی تعلق نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بھی روپیہ دیتا ہے مگر وہ روپیہ یا تو انعام کے طور پر ہوتاہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُس کے ذریعہ غرباء کی امداد کی جائے۔اور یا پھر آزمائش کے طورپر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ اس روپیہ کا کیسے استعمال کرتے ہیں۔اگر تو روپیہ کے آنے سے انسان کا ایمان سلامت رہے تو وہ روپیہ اس کے لئے خیر اور