تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 540
کہ دیکھو تم نے وعدہ کیا تھا۔وہ اپنے کشمیری طریق پر کہنے لگا۔’’جی میں مسلمان ہوندی۔میں مسلمان ہوندی‘‘۔میری عمر اس وقت کوئی اُنیس بیس سال کی تھی۔مجھے اس پر غصہ چڑھے کہ یہ اپنا فعل اسلام کی طرف کیوں منسوب کرتا ہے یہ کہے میں نے ٹھگی کی ہے جانے دو۔یہ کیوں کہتاہے کہ میرے مسلمان ہونے کے لحا ظ سے میرا حق تھا کہ میں ٹھگی کرتا۔غرض میں اصرار کروں کہ اسے پورا کرو۔اور وہ یہی کہتا جائے کہ میں مسلمان ہوں۔میں مسلمان ہوں۔گویا اسلام اتنا گر گیا ہے کہ اب یہ سمجھاجا تاہے کہ مسلمان اگر ٹھگی کرے تو یہ بھی اس کا ایک قسم کا جائز حق ہے۔میں جب پہلی دفعہ کشمیر گیا تومجھے معلوم ہوا کہ کشمیر کے تاجروں کی صرف چاندی کے کام کی ایک کروڑ روپیہ کی تجارت یورپ والوں سے تھی۔ایک کروڑ روپیہ کی تجار ت کے یہ معنے ہیں کہ بیس پچیس لاکھ روپیہ انہیں بطور منافع حاصل ہوتا تھا اور کام کی مزدوری الگ تھی لیکن مجھے بتایا گیا کہ اب یہ تجارت سولہ لاکھ روپیہ تک رہ گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ کے لوگ کہتے ہیں۔یہاں کے مال کا کوئی معیارنہیں۔کبھی کوئی چیز بھیج دیتے ہیں اور کبھی کوئی۔کبھی تو نہایت اعلیٰ مال روانہ کردیںگے اور کبھی اس میں کھوٹ ملادیں گے۔حالانکہ اگر وہ دیانت داری سے کام کرتے تو وہ ایک کروڑکی تجارت آج تین چار کروڑ روپیہ تک پہنچی ہوئی ہوتی۔پہلے زمانہ میں تجارتیں بہت کم تھیں۔تجارت میں زیادتی اسی زمانہ میں ہوئی ہے۔پھر اگر اس زمانہ میں جب کہ تجارت کا رواج بہت کم تھا ان کی ایک کروڑ روپیہ کی تجارت ہوسکتی تھی تو لازماً اب وہ تجارت تین چار کروڑ روپیہ کی ہوجاتی۔مگر بجائے اس کے کہ ان کی تجارت تین چار کروڑ روپیہ تک ترقی کرتی اور کروڑ ڈیڑھ کروڑ روپیہ انہیں نفع حاصل ہوتا۔پہلی تجارت بھی گر گئی اور وہ ایک کروڑ سے اُتر کر سولہ لاکھ روپیہ تک آگئی۔اگر وہ تھوڑے سے نفع کی خاطر بددیانتی کرکے اپنے کام کو نقصان نہ پہنچاتے تونتیجہ یہ ہوتا کہ ان کی یہ تجارت خوب چلتی مگر چونکہ انہوں نے بددیانتی کی اس لئے تجارت میں نقصان ہوگیا انگریزوںکے کئی لوگ دشمن ہیں۔مگر دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ تجارت کے معاملہ میں انگریزوں پر زیادہ اعتبار کیا جاسکتا ہے۔انگریزوں سے اتر کر امریکہ اور جرمن کے لوگ ہیں اور ان سے اتر کر اور ممالک کے لوگ ہیں۔مگر ایشیا تجارت میں اتنا خطرناک طورپر بدنام ہے کہ کوئی قوم اس پر اعتبار نہیں کرتی۔حالانکہ قومی ترقی ہمیشہ امانت اور دیانت داری کی شہرت کے ساتھ ہوتی ہے۔اگر تمام مسلمان تاجر دیانتدار ہوں تو لوگ سودوکانوںکو چھوڑ کر بھی ان کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ ان سے سودا اچھا ملتا ہے۔لیکن اگر کوئی مسلمان دوکاندار بھی ایک من آٹے میں سیر بھر مٹی ملادیتا ہے تو اس کے اندر وہ کون سے چیز ہوگی جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف توجہ کریں گے۔پس ہر شخص کو اس بات کا فیصلہ کرنا لینا چاہیے کہ میں نے بددیانتی کو مٹانا ہے۔اگر اس کا باپ دوکاندار ہے تو وہ اپنے باپ