تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 50

ہوئے ہیں۔یہ مسلمانوں کی آج کی بے بسی اور ان کی کمزوری کو دیکھ کر طعنہ زنی کر رہے ہیں مگر مستقبل اُن کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔اور وہ یہ نہیں جانتے کہ جن باغات پر اُن کا قبضہ ہے اور جن خزانوں پر انہیں ناز ہے۔ایک دن آنے والا ہے کہ وہ اُن کے ہاتھو ں سے چھینے جائیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھیوں کو دے دئیے جائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو پورا کیا اور محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی برکت سے اُس نے مسلمانوں کو بڑے بڑے باغات اور محلات عطا فرمائے۔وہ طائف اور نخلہ کے باغوں کے بھی مالک ہوئے اور قیصرو کسریٰ کے خزانوں کے بھی مالک ہوئے اور ان ہیروں اور جواہرات کے ڈھیر اُن کے قبضہ میں آئے۔اور یہ سب کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا۔چنانچہ غزوۂ احزاب میں جب مدینہ کی حفاظت کے لئے خندق کھودی جارہی تھی تو اچانک ایک پتھر ایسا آگیا جو باوجود کوشش کے صحابہ ؓ سے ٹوٹ نہ سکا۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور کدال ہاتھ میں لی اور زور سے اس پتھر پر ماری۔پتھر میں سے روشنی کی ایک شعاع نکلی اور آپ نے بلند آواز سے فرمایا اَللّٰہُ اَکْبَر۔آپ ؐ کے نعرہ تکبیر بلند کرنے پر صحابہ ؓ نے بھی زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا۔پھر دوسری دفعہ آپ ؐ نے کدال ماری تو پھر اُس میں سے روشنی کی شعاع نکلی اور آپؐ نے پھر فرمایا اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اور صحابہ ؓ نے بھی بڑے جوش سے کہا اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اس کے بعد تیسری دفعہ آپ ؐ نے کدال ماری تو پھر اُس میں سے ایک شعا ع نکلی اور آپ ؐ نے فرمایا اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اور صحابہ ؓ نے بھی کہا اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اور وہ پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔جب پتھر ٹوٹ چکا تو صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ ؐ نے کدال مارتے وقت تین دفعہ اللہ اکبر کیوں کہا تھا۔آپ نے فرمایا۔جب پہلی دفعہ پتھر میں سے روشنی نکلی تو مجھے کشفی حالت میں قیصرروم کے محلات دکھائے گئے اور اُن کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں۔پھر دوسری دفعہ میں نے کدال ماری تو مجھے مدائن کے سفید محلات دکھائے گئے اور مملکت ِ فارس کی کُنجیاں مجھے دی گئیں۔اس کے بعد تیسری دفعہ میں نے کدال ماری تو مجھے صنعاء کے دروازے دکھائے گئے اور مملکت ِیمن کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔پس تم ان خدائی وعدوں پر ایمان لائو اور یقین رکھو کہ دشمن تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔وہ یقیناً مغلوب ہوگا اور خدا تعالیٰ تمہیں کامیابی و کامرانی عطا فرمائےگا۔انہی وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس قدر فتوحات عطا فرمائیں کہ قیصرو کسریٰ جیسی عظیم الشان سلطنتوں کی انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اُن کے بڑے بڑے محلات اور باغات اور جواہرات اور بیش قیمت نوادرات مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔انہی فتوحات کے نیتجہ میں ایک دفعہ کسریٰ شہنشاہ ایران کا رومال جو وہ تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا۔