تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 535
ہوں گے کہ جیسے بچے اپنے ماں باپ کی اطاعت کرتے ہیں اسی طرح تمہارا فرض ہے کہ ہماری اطاعت کرو۔لیکن جب انہوں نے یہ کہا کہ ہم تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے توا س وقت انہوں نے اس کے ساتھ یہ دوسرا فقرہ نہیں کہا جو قلوب میں ایک گدگدی پیدا کردیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص سے کوئی بڑا کام لینا چاہتاہے توا س کےلئے سامان بھی پیدا کردیتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے جو کام لیا وہ کسی اور نبی سے نہیں لیا۔اسی لئے آپؐ پر جو کلام نازل ہوا وہ بھی ایسا مکمل ہے کہ اس کی آیات کو پڑھتے ہوئے یو ں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز ہمارے دل کو پکڑ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ یہ بھی لے لواور وہ بھی لے لو۔اَوْفُوا الْكَيْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَۚ۰۰۱۸۲وَزِنُوْا (اے لوگو!)پیمانہ پورا (بھر کر)دیا کرو۔اور (دوسروںکو) نقصان پہنچانے والے مت بنو۔بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِۚ۰۰۱۸۳وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اور سیدھی ڈنڈی سے تولا کرو۔اور لوگوںکو ان کی چیزیں (ان کے حق سے) کم نہ دیا کرو۔اَشْيَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَۚ۰۰۱۸۴ اور ملک میں ہرگز فساد نہ کیاکرو۔حلّ لُغَات۔اَلْقِسْطَاسَ۔القِسْطَاسُ اَلْمِیْزَانُ یعنی قسطاس کے معنے ترازو کے ہیں۔وَاَقْوَمُ الْمَوَزِیْنِ۔اور خاص طور پر اُس ترازو کے جو بالکل صحیح تول دیتاہو۔(اقرب) تفسیر۔حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دوسروں کو پیمانہ پورا بھر کردیا کرو۔اور لوگوں کو نقصان پہنچانے والے مت بنو۔اور ترازوکی ڈنڈی بھی سیدھی رکھا کرو۔اور انہیں جائز حق سے کم مت دیا کرو۔اور ملک میں فتنہ وفساد سے کلی طور پر مجتنب رہو۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں شرک کے علاوہ تجارتی بددیانتی کا بھی بڑا زور تھا۔چونکہ ان لوگوں کا گزارہ زیادہ ترتجارت پرتھا اس لئے وہ دھوکا اور فریب سے کام لینے لگ گئے۔وہ اوّل تو