تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 522
اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ۰۰۱۶۷ فعل کرتے ہو)۔بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ )تم (انسانی فطرت کے ) تقاضوں کو ہرطرح توڑنے والی قوم ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے۔لوط ؑ کی قوم نے بھی رسولوں کا انکار کیا۔اس جگہ بھی لوط ؑکےلئے مرسلین کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ لوطؑ اپنے زمانہ میں باقی نبیوںکی طرح سب رسولوں کا قائم مقام تھا اور اس کا انکار درحقیقت سب نبیوںکا انکار تھا لوطؑ نے بھی اپنی قوم سے کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رسول امین کی حیثیت میں تمہاری طرف آیا ہوں۔تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری سنو تاکہ تم نجات پائو۔میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔میر ااجر صرف رب العالمین خد ا کے ذمہ ہے۔میں تو اس لئے آیا ہوںکہ تمہیں برائیوں سے بچنے کی نصیحت کروں۔اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرف توجہ دلائوں۔تم میں یہ ایک بڑی خرابی پائی جاتی ہے کہ تم مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہواور اللہ تعالیٰ نے تسکین جذبات اور باہمی مودّت و الفت کے قیام کے لئے جو مرد و عورت کے تعلقات کا سلسلہ قائم کیا ہے اس کو پسِ پُشت ڈال رہے ہو۔یہ چیز بتا رہی ہے کہ تم انسانی فطرت کے تقاضوں کو توڑنے والی قوم ہو۔قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ۰۰۱۶۸ انہوں نے کہا۔اے لوطؑ! اگر تو باز نہ آیا تو تُو ملک بدر کئے جانے والوں میں شامل ہوجائے گا۔اُس قَالَ اِنِّيْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِيْنَؕ۰۰۱۶۹رَبِّ نَجِّنِيْ وَ اَهْلِيْ (یعنی لوط ؑ ) نے کہا (بہرحال) میں تمہارے عمل کو نفرت سے دیکھتا ہوں۔اے میرے ربّ! مجھے اور مِمَّا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۷۰ میرے اہل کو ان کے اعمال سے نجات دے۔حلّ لُغَات۔قَالِیْنَ۔قَالِیْنَ قَلٰی سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے اور قَلٰی فُلَانًا کے معنے ہیں اَبْغَضہٗ وَکَرِھَہٗ غَایَہَ الْکَرَاھَۃِ فَتَرَکَہٗ۔کسی کو ناپسند کیا اور ناپسندیدگی کے بناپر چھوڑ دیا۔(اقرب)