تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 519
هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ۰۰۱۵۶وَ لَا اس کے لئے گھاٹ پر پانی پینا مقرر ہے اور ایک دن تمہارے لئے گھاٹ سے تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۵۷ پانی لینا مقرر ہے۔اور تم اس (اونٹنی) کو کوئی نقصان نہ پہنچانا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کوآپکڑے گا۔فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَۙ۰۰۱۵۸فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ (یہ سن کربھی ) انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور (پھر) شرمندہ ہوگئے۔تب ان کو فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۵۹وَ اِنَّ (موعود) عذاب نے آپکڑا۔اس میں یقیناً ایک بہت بڑا نشان تھا۔لیکن ان میں سے اکثر رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۶۰ مومنوں میں شریک نہ ہوئے۔اور تیرا رب یقیناً غالب (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔عَقَرُوْھَا۔عَقَرَہٗ کے معنے ہیں جَرَحَہٗ۔اُس کو زخمی کردیا۔نَحَرَہٗ ا س کو ذبح کیا۔اور جب اونٹ کے متعلق یہ لفظ استعمال کریں اور کہیں کہ عَقَرَالْاِبِلَ تو معنے ہوں گے قَطَعَ قَوَائِـمَھَا بِالسَّیْفِ اس کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں (اقرب) پس عَقَرُوْھَا کے معنے ہوں گے انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔تفسیر۔حضرت صالح علیہ السلام نے جب انہیں نصیحت کی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اے صالح ؑ ! ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھے کھانا دیا جارہا ہے۔یعنی ہمیں تباہ کرنے کے لئے کوئی غیر حکومت تجھے رشوت دے رہی ہے۔ہر نبی کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی مخالف کہتے تھے کہ بعض اور لوگ اس کی مدد کررہے ہیں۔اور بانی سلسلہ احمدیہ کے وقت میں بھی لوگ یہی کہتے تھے کہ انگریز ان کو روپیہ دے کر مسلمانوں کے خلا ف کھڑ اکررہے ہیں۔مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا۔آخر تجھے کیا لال لگے ہوئے ہیں تو ہمارے جیسا ایک آدمی ہی ہے نا۔اگر ایسا نہیں اورتو واقعہ میں اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو جو نشان تیرے پاس ہے وہ لے آ۔حضرت صالح علیہ السلام نے جواب