تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 516
کر آ جائے تووہ جلدی دھوکا کھا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اس قصہ کے بیان کرنے سے یہی منشاء ہے کہ جب آدمؑ شیطان کو دیکھ کر دھوکا کھا گیا تو وہ لوگ جو ابھی شیطان کے ہتھکنڈوں سے واقف ہی نہیںوہ اس کی طرف سے کیسے مطمئن ہوسکتے ہیں۔پس موجودہ اور آئندہ نسلوںکو شیطان کے حملوں سے بچانے کےلئے اسلام یہ نصیحت کرتاہے کہ تم اپنے اندر بھی وعظ و نصیحت کا سلسلہ جاری رکھو اور بیرونی دنیا کو بھی ہمیشہ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہو تاکہ شیطان ذریّتِ آدمؑ کو گمراہ کرنے سے ہمیشہ کےلئے مایوس ہوجائے۔بہرحال عاد کی قوم نے ہودؑ کی نصیحتوں پر کوئی کان نہ دھرا اور اس کو جھٹلادیا۔جس کایہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً۔وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّوْمِنِیْنَ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۔فرماتا ہے انہوں نے تو بڑے بڑے مکانات بنا کر اپنا نشان قائم کیا تھا مگر ہم نے ان کی بستیاں مٹا کر ایک نشان قائم کردیا۔لیکن اس نشان کا ہود کی قوم کوکیا فائدہ پہنچا۔وہ تباہ ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کےلئے ایک عبرت کا نشان قائم کرگئی۔كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَۚۖ۰۰۱۴۲اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔جب کہ انہیں ان کے بھائی صالح ؑ نے کہا تھا کہ کیاتم تقویٰ نہیں کرتے ؟ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ۰۰۱۴۳اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ۰۰۱۴۴فَاتَّقُوا میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغامبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس اللہ (تعالیٰ) کا تقویٰ اختیار کرو اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِۚ۰۰۱۴۵وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اور میری اطاعت کرو۔اور میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت طلب نہیں کرتا میری اُجرت تو اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۴۶اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا هٰهُنَاۤ رب العالمین کے ذمہ ہے (جس نے مجھے بھیجاہے)کیا(تم خیال کرتے ہوکہ) جو کچھ اس (دنیا) میں ہے اٰمِنِيْنَۙ۰۰۱۴۷فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍۙ۰۰۱۴۸وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا تمہیں اسی میں ان کے ساتھ (زندگی بسر کرتے ہوئے ) چھوڑ دیا جائے گا۔یعنی باغات اور چشموں میں۔