تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 514

کہ فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى (الاعلٰی :۱۰)تمہار اکام یہی ہے کہ تم نصیحت کرتے چلےجائو۔کیونکہ نصیحت کرنا بہرحال دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔پس خواہ کوئی کتنا ہی مخالف ہو۔اس کے متعلق کبھی مایوسی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔دل خدا تعالیٰ کے قبضہ و اختیار میں ہیں۔تمہار ا کام یہ ہے کہ تم باربار خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کی باتیں لوگوں کے کانوں میں ڈالتے رہو۔ایک دن یقیناً ایسا آجائے گا کہ ان کے دل کے زنگ دور ہوجائیں گے۔اور وہ ہدایت کو خوشی سے قبول کر لیںگے۔اولیاء کی کتب میں لکھا ہے کہ ایک شخص مسلمانوں کو سخت دکھ دیا کرتا تھا۔اور باوجود سمجھانے کے باز نہیں آتا تھا۔آخر کئی لوگوں نے تنگ آکر اس محلہ کو ہی چھوڑ دیا جس میں وہ رہتا تھا۔ایک دفعہ ایک بزرگ حج کر رہے تھے کہ انہوں نے اسی شخص کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔انہوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ تُو کہاں؟ تیرا کام تو سارادن گانا بجانا اور شرابیں پینا تھا تو کعبہ کا طواف کرنے کے لئے کس طرح آگیا۔وہ کہنے لگا۔ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔آپ لوگ مجھے قرآن بھی سناتے اور حدیثیں بھی بتاتے مگر میرے دل پر ذرا بھی اثر نہ ہوتا۔ایک دن مجلس لگی ہوئی تھی۔دوست احباب بیٹھےتھے شراب کی صراحیا ں قرینے سے رکھی ہوئی تھیں کہ یکدم مجھے گلی میں سے ایک آواز آئی۔کوئی اجنبی نامعلوم کون گلی میں سے گزررہا تھا اور قرآن کریم کی یہ آیت بڑی خوش الحانی سے پڑھتا جار ہا تھا کہ اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ۔کیا مومنوں پرا بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھرجائیں۔یہ آیت جونہی میرے کان میں پڑی مجھے یوں معلوم ہو ا کہ یہ آیت ابھی آسمان سے میرے لئے اُتری ہے۔میرے آنسو جاری ہوگئے۔میں نے مجلس برخواست کردی۔گانے بجانے کے آلات توڑ دیئے توبہ کی اور حج کےلئے چل پڑا۔تم نے سار ا قرآن مجھے سنادیامگر مجھ پر اثر نہ ہوا لیکن وقت ہوتا ہے۔ایک آیت نے میری کایاپلٹ دی اور اب میں توبہ کرکے حج کرنے آیا ہوں۔تو قلوب بعض دفعہ ایسے رنگ میں بدلتے ہیں کہ حیرت آجاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک عورت نے دوسری عورت کو مار ااور اس کا دانت توڑ دیا۔اسلامی شریعت کی رو سے ضروری تھا کہ اُس عورت کا بھی قصاص کے طورپر دانت توڑا جاتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا۔وہ عورت جس نے دانت توڑا تھا اس کی طرف سے حضرت انسؓ بطور وکیل پیش ہوئے۔(بخاری کتاب التفسیر باب یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص البقرۃ:۱۷۹)۔اور انہوں نے کہا کہ بیشک قصاص کے طور پر اس کا بھی دانت توڑا جانا چاہیے مگر میں معافی کی درخواست کرتا ہوں اگر دوسر ا فریق معاف کردے تو یہ اس کا احسان ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسری عورت کے رشتہ داروں سے کہا کہ