تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 509

جَبَّارِيْنَۚ۰۰۱۳۱فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِۚ۰۰۱۳۲وَ اتَّقُوا الَّذِيْۤ اور میر ی اطاعت کرو۔پھر میں کہتا ہوں کہ اس (ذات) کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہاری ان چیزوں اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ۰۰۱۳۳اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِيْنَۚۙ۰۰۱۳۴ سے مدد کی ہے جن کو تم جانتے ہو۔اس نے تمہاری مدد کی ہے چارپائے اوربیٹے۔اور باغ اور چشمے دے کر۔وَ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍۚ۰۰۱۳۵اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍؕ۰۰۱۳۶ میں تم پر ایک بڑے دن کا عذاب نازل ہونے سے ڈرتا ہوں۔حلّ لُغَات۔رِیْعٌ۔اَلرِّیعُ کے معنے ہیں اَلتِّلُّ الْعَالِیْ۔اونچا ٹیلہ۔اَلطّرِیْقُ الْمُنْعَرَجُ فِی الْجَبَلِ۔پہاڑ میں چڑھائی کا وہ راستہ جو چکر کھا کر جاتاہو۔اَلْجَبَلُ الْمُرْتَفِعُ۔بلند پہاڑ۔وَقِیْلَ مَسِیْلُ الْوَادِیْ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ مُرْتَفِعٍ۔اور بعض ائمہ لُغت کہتے ہیں کہ ریع ہر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں اونچی جگہ سے پانی آئے اور بہہ جائے (اقرب) تَعْبَثُوْنَ۔تَعْبَثُوْنَ عَبَثَ سے فعل مضارع مخاطب جمع کا صیغہ ہے۔اور العَبَثُ (جو عَبَثَ کا مصدر ہے) کے معنے ہیں۔اِرْتِکَابُ اَمْرٍ غَیْرُ مَعْلُوْمِ الْفَائِدَۃِ اَوْلَیْسَ فِیْہِ غَرَضٌ صَحِیْحٌ لِفَاعِلِہٖ۔کسی ایسی بات کا کرنا جس کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔یا ایسا کام کرنا کہ جس کے کرنے والے کی غرض صحیح نہ ہو(اقرب) پس تَعْبَثُوْنَ کے معنے ہوںگے تم بے فائدہ کام کرتے ہو۔مَصَانِعَ۔مَصَانِعَ کے معنے ہیں۔اَلْقُریٰ وَالْمَبَانِی مِنَ الْقُصُوْرِ وَالْحُصُوْنِ۔بستیاں اور بڑی بڑی عمارات (اقرب) بَطَشْتُمْ۔بَطَشْتُمْ بَطَشَ سے جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے۔اور بَطَشَ کے معنے ہیں اَخَذَہٗ بِالْعَنْفِ۔سختی سے پکڑا۔وَتَنَاوَلَہٗ بِشِدَّ ۃٍ عِنْدَالصَّوْلَۃِ۔حملہ کے وقت سختی سے پکڑا۔(اقرب) پس بَطَشْتُمْ کے معنے ہوںگے تم سختی سے پکڑتے ہو۔جَبَّارِیْنَ۔جَبَّارِیْنَ جَبَّارٌ کی جمع ہے اور جَبَّارٌ کے معنے ہیں۔کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ۔متکبر اور سرکش