تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 503
کردیا۔یہ سوچنے کا نتیجہ تھا کہ ان کے دماغ نے فوراً ایک راہ نکال لی اور اس کے مطابق انہوں نے اس جھگڑے کا فیصلہ کردیا۔اس قسم کے ان کے اور بھی بہت سے فیصلے مشہور ہیں اور وہ آج تک یورپ کی ریڈرز میں بچوںکو پڑھائے جاتے ہیں۔اور انہیں سگیشس قاضی یعنی عقلمند قاضی کہا جاتا ہے۔کیونکہ وہ بہت جلد فیصلہ کردیتے تھے او ر فیصلہ نہایت صائب ہوتا تھا۔مگر اس کی وجہ کیا تھی؟ وجہ یہی تھی کہ انہیں سوچنے اور غور کرنے کی عادت تھی۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کوفہ کے لوگ باربار شرارتیں کرتے تھے اور جو بھی گورنر مقرر ہوکر آتا اس کی شکایتیں کرنی شروع کردیتے اور آخر اسے بدلوا دیتے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ بعض لوگوں نے کہا کہ آپ کوفہ کے گورنر کو باربار کیوں بدلتے ہیں۔ان لوگوں کی تو عادت ہی یہی ہے کہ جو شخص بھی ان کا گورنر بن کرجائے اس کی شکایتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک یہ لوگ گورنر بدلنے کےلئے کہتے چلے جائیں گے میں بھی بدلتا چلا جائوں گا تاکہ ان کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔آخر جب ان کی شکایتیں بہت بڑھ گئیں تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اب کی دفعہ میں ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جس کے متعلق مجال نہیں کہ کوفہ والے اُف بھی کرسکیں۔چنانچہ انہوں نے ابن ؔ ابی لیلیٰ کو وہاں کا گورنر مقرر کر کے بھیجا۔اس وقت ان کی عمر ۱۹سال کی تھی۔کوفہ والوں کو جب پتہ لگا کہ اب ایک ایسا نوجوان ہمارا گورنر بن کرآیا ہے جس کی عمر صرف۱۹سال ہے تو وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے سوچا کہ اب ہم اس کا خوب مذاق اڑائیں گے اور اسے اچھی طرح شرمندہ اور ذلیل کریں گے۔جب ان کے آنے کی وہاں اطلاع پہنچی تو انہوں نے بڑے بڑے آدمیوں کو اکٹھا کیا اور تجویز یہ کی کہ بوڑھو ں اور بڑی عمر والوں کا ایک وفد بنایا جائے۔جو شہر سے باہر نکل کر گورنر کا استقبال کرے۔اس وفد کے ساتھ عام لوگوں کا ایک بھاری ہجوم ہو۔تمام شہر میں جلوس نکالا جائے اور جب گورنر صاحب تشریف لائیں تو تمسخر کے طور پر ان سے پوچھا جائے کہ جناب کی عمر کیا ہے ؟ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔بڑے بڑے بڈھے اور آزمودہ کار اورشہر کے رئیس ایک وفد کی صورت میں جمع ہوئے۔ان کے ساتھ شہر کے ہزاروں آدمی ایک جلو س کی صور ت میں باہر نکلے تاکہ وہ ابن ؔ ابی لیلیٰ کا استقبال کریں۔جب وہ قریب پہنچے تو ایک بہت بڈھا آدمی جس کو انہوں نے سکھایا ہوا تھا آگے بڑھا اور اس نے کہا۔حضور آپ کی عمر کیا ہے ؟ ان کا خیال تھاکہ وہ جواب میں کہیں گے ۱۹سال اور اس پر سب لوگ ہنس پڑیں گے کہ ۱۹سال کا نوجوان کوفہ جیسے شہر میں گورنر بنا کر بھیجا گیا ہے۔مگر ان کو سوچنے کی عادت تھی او ر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غور کرنے کا ایسا عادی بنا دیا تھا کہ ان کی نگاہ حقیقت تک فوراً پہنچ جاتی تھی۔جب انہوں نے کہا۔حضور آپ کی عمر ؟ تو وہ فوراً تاڑ گئے کہ ان کی غرض سوال کرنا نہیں بلکہ تمسخر اور استہزاء کرنا ہے چنانچہ انہوں