تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 502
محرف و مبدل ہو چکی ہے اس لئے اتنا ہی اس سے بدظن ہوتا چلا جائے گا۔اسی طرح جتنا جتنا کوئی ویدوں پر غور کرے گا اتنا ہی وہ ویدوں سے بدظن ہوتا چلا جائے گا۔گویا غوراور فکر کا یہ نتیجہ ہوگا کہ مسلمان اپنے ایمان میں مضبوط ہوتا چلا جائے گا اورہندو اور عیسائی اور موسائی اپنے ایمان میں متزلزل اور کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔پس سوچنا اور سمجھنا مذہب کو مضبوط کرتا اور ایمان کو تقویت دیتا ہے۔دنیوی لحاظ سے بھی غور کرکے دیکھ لو ابتدائے اسلا م میں مسلمانوں نے سوچا اور علوم پر غور کیا تو وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔آخر مسلمانوں سے پہلے عربی زبان موجود تھی۔بلکہ عربوں کی یہ مادری زبان تھی مسلمانوں سے پہلے تاریخ موجود تھی لیکن باوجود اس کے انہوں نے اسلام سے پہلے کوئی بھی حرکت نہیں کی۔لیکن اسلام کے بعد ان میں ایسی تبدیلی پیدا ہوگئی کہ انہوں نے عربی مدوّن کی۔لغتیں لکھیں۔زبان عربی کے اصول اور قوائد وضع کئے۔صرف و نحو کے اصول تجویز کئے۔فقہ کے اصو ل تجویز کئے۔تاریخ کے اصول مدوّن کئے۔یہ فرق آخر کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ مسلمانوں کو تعلیم دی گئی تھی کہ ہربات پر سوچو اور غور کرو۔جب انہوں نے سوچا تو وہ ہر میدان میں آگے نکل گئے۔اور ان میں بڑے بڑے نحوی۔بڑے بڑے صرفی۔بڑے بڑے قاضی۔بڑے بڑے مؤرخ اور بڑے بڑے جرنیل نظر آنے لگے۔لیکن جب مسلمانوں نے سوچنا ترک کردیا اور یورپ نے سوچنا شروع کیا۔تو مسلمان گر گئے اور یورپ کے لوگ کہیں سے کہیں نکل گئے۔مسلمان جب ایک زندہ قوم تھے۔وہ ہر چیز میں غور وفکر کرنے کے عادی تھے۔اور اس چیز نے ان کے دماغوں کو ایسا روشن کردیا تھا کہ وہ بڑے بڑے جھگڑے نہایت خوش اسلوبی سے طے کرلیا کرتے تھے۔یورپ میں بچوں کو جوریڈرز پڑھائی جاتی ہیں ان میں ابن ابی لیلیٰ کا ایک واقعہ آتاہے۔یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے ایک مسلمان جج تھے۔انہوں نے قضا میں جس طرح ترقی کی اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ ان کے پاس دوشخص لڑتے ہوئے آئے۔ان میں سے ایک تیلی تھا۔ا ور دوسر ا قصائی۔جھگڑا یہ تھا کہ کچھ روپوں کے متعلق ان میں سے ایک کہتا تھا کہ یہ میرے روپے ہیں۔اور دوسرا کہتا تھا کہ یہ میرے روپے ہیں۔آخر انہوں نے اس کے فیصلہ کی ایک راہ نکالی۔غور کرو وہ کتنی باریک بات تھی جو انہوں نے سوچی۔انہوں نے سوچا کہ ان میں سے ایک قصائی ہے اور ایک تیلی۔ان دونوں کے پاس کہیں سے اکٹھی دولت نہیں آسکتی۔یہی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے روپیہ روپیہ لے کرجمع کیا ہو۔مگر سوال یہ ہے کہ روپے کس کے ہیں۔اس کے لئے انہوں نے پانی منگوایا اور اسے گرم کروایا۔پھر وہ روپے اس پانی میں ڈال دیئے۔یہ دیکھنے کے لئے کہ پانی پر کیا چیز آتی ہے۔اگر تیل آیا تو روپے تیلی کے ہوں گے اوراگر چربی آ گئی تو روپے قصاب کے ہوں گے۔چنانچہ جو نشان آیا۔اس کے مطابق انہوں نے فیصلہ