تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 501
نیزہ اس کے سینہ سے پار گیا بے اختیار ا س کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئےکہ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ خدائے کعبہ کی قسم! آج میں نے اپنا مقصد پالیا۔او ر یہ کہتے ہوئے وہ گرا او رشہید ہوگیا۔میں نے یہ الفاظ سنے۔تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔میں نے اپنے دل میں کہا۔یہ بات کیاہے۔کیا یہ شخص پاگل تھا کہ دشمن اسے نیزہ مارتا ہے۔اور نیزہ بھی ایسی حالت میں مارتا ہے جب یہ اپنے وطن سے سو ڈیڑھ سو میل کے فاصلہ پر ہے۔اس وقت بجائے اس کے کہ یہ کہے ہائے اماں ! بجائے اس کے کہ یہ کہے ہائے ابا! بجائے اس کے کہ یہ کہے ہائے میری بیوی! وہ کہتا ہے تویہ کہ خدائے کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔یہ کامیاب کہاں ہوا؟ یہ تو مرگیا تھا پھر اس نے یہ الفاظ کیوں کہے۔معلوم ہوتا ہے یہ شخص پاگل تھا۔یہ نہیں جانتا تھا کہ کامیابی کیا چیز ہے اور ناکامی کیا چیز؟ چنانچہ لڑائی کے بعد میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا یہ کوئی پاگل تھا کہ جب اس پر حملہ کیا گیاتوبجائے اس کے کہ یہ کسی تکلیف کا اظہار کرتا اس نے کہا تو یہ کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔وہ کہنے لگا۔مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں۔وہ مرنے میں کامیابی سمجھتے ہیں۔جب اس نے یہ بات کہی تو میرے دل پر اس کا گہرا اثر ہو ا اور میں نے کہا۔تب ضرور کوئی بات ہے ورنہ اس طرح جان دینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوسکتا۔چنانچہ ایک دن میں چوری چھپے مدینہ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں سنیں۔تو میرا دل کھل گیا اور میں نے سمجھا کہ اصل میں یہی سچائی ہے۔تب میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ مسلمان کیوں جان دیتا ہے۔مسلمان اس لئے جان دیتا ہے کہ اسے روشنی نظرآجاتی ہے۔اور جسے روشنی نظر آجائے اس کا مقابلہ وہ شخص کہاں کرسکتا ہے جسے تاریکی ہی تاریکی دکھائی دے (بخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجیع)۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے باربار مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ تم سوچو اور سمجھو۔درحقیقت بغیر اس کے ہمیں کسی دوسری قوم پر فضیلت حاصل ہی نہیں ہوسکتی اگر ہم خالی کہیں کہ تم قرآن مانو۔اور مسلمان بنوتو ہندو کہیں گے ہندو بنو اور وید پڑھو۔سکھ کہیں گے سکھ بنو اور گرنتھ پڑھو۔عیسائی کہیں گے عیسائی بنو اور انجیل پڑھو۔پھر ہم میںاور ان میں کیا فرق رہا۔صرف ایک ہی فرق ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ ہم سوچ کر مانیں اور سمجھ کر مانیں۔جب ہم ہر بات کو سوچ کر اور سمجھ کر مانیں جب ہم ہر بات کو سوچ کر اور سمجھ کرماننے کے عادی ہوجائیں گے تو سچی کتاب والا اپنی کتاب پر زیادہ سے زیاد ہ مضبوط ہوتا چلا جائے گااور غلط تعلیم والا زیادہ سے زیادہ اپنی مذہبی تعلیم سے متنفر ہوتا چلا جائے گا۔مثلاً ہم قرآن کریم پر غور کریں گے اور اس کی تعلیموں کو سوچیں گے تو زیادہ سے زیادہ اس میں سے دلائل نکلتے چلے آئیں گے اور ہمار ا ایمان زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔لیکن ایک عیسائی عیسائیت پر جتنا بھی غور کرے گا اس کا ایمان کمزور ہوتا جائے گا۔ایک یہودی جتنا جتناتورات پر غو ر کرے گا چونکہ وہ