تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 498

ہے۔ایک شخص کو زیدنظر آتا ہے بکرنظر آتا ہے عمر نظر آتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ یہ سارے ایک پارٹی کے ہیں اور مختلف راستوں اور مختلف مقامات سے ایک جگہ جمع ہوئے ہیں۔تو وہ ان کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ انہوں نے ضرور کوئی سکیم بنائی تھی جس کےیہ ماتحت اکٹھے ہوئے ہیں۔لیکن بکری اور کتا وغیرہ یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے وہ یہی دیکھیں گے کہ زیدآیا ہے یا بکر اور عمراور خالد آیا ہے۔لیکن انسان یہ دیکھ کر کہ ایک پار ٹی کے آدمی مختلف راستوں سے ایک مقام پر اکٹھے ہوئے ہیںسمجھ جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے کوئی فیصلہ کیا ہؤا تھا۔یادشمن کارروائی کرتاہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ مجھے کس طرح اسے زک دینی چاہیے۔غرض قرآن کریم نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ تم شعور سے کام لو۔تم علم سے کام لو۔تم فکر سے کام لو۔تم عقل سے کام لو۔تم تفقّہ سے کام لو۔تم استنباط کی قوت سے کام لو اور وہ بار بار دشمنوں کو توجہ دلاتا ہے کہ تمہیں کیا ہوا کہ تم شعور سے کام نہیں لیتے۔تم علم سے کام نہیں لیتے۔تم فکر سے کام نہیں لیتے۔تم عقل سے کام نہیںلیتے۔تم تفقّہ سے کام نہیں لیتے۔تم استنباط سے کام نہیں لیتے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دشمنوں میں یہی فرق بتایا ہے۔فرماتا ہے۔قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ(یوسف : ۱۰۹)اے محمدرسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم تو اپنے مخالفوں سے کہہ دے کہ تمہارے اور میرے درمیان ایک فرق ہے تم بھی ایک عقیدہ پر ایمان رکھتے ہو اور میں بھی ایک ہی عقیدہ پر ایمان رکھتا ہوں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ جس طرح محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ایک عقید ہ ہے اسی طرح ہمارا ایک عقیدہ ہے اگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچّا کہیں تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے۔ہم کیوںیہ سمجھیں کہ جو بات محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں وہ ٹھیک ہے اور جو ان کے دشمن کہتے ہیں وہ غلط ہے۔بہر حال مکہ کا ایک آدمی کہہ سکتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ ہماری بات مانی جائے۔اس کی وجہ کیا ہے اور کیوں ہم آپ کی بات کو تسلیم کریں۔اس کے کئی جواب ہوسکتے تھے جن میں سے ایک جواب قرآن کریم نے یہ دیا ہے کہ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ۔تو مکہ والوں سے کہہ دے کہ تمہارے جھوٹے ہونے اور میرے سچے ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ میں اور میرے ساتھی ہر بات کو دلیل کے ساتھ مانتے ہیں اور تم بے دلیل مانتے ہو۔تمہارا بلا دلیل ماننا بتاتا ہے کہ تم نے سوچا نہیں اور میرا بادلیل ماننا بتاتا ہے کہ میں نے سوچ کر مانا ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جو سوچ کر مانے گا وہ زیادہ حق پر ہوگا بہ نسبت اس شخص کے جو بلا سوچے سمجھے کسی بات کو تسلیم کرلیتا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ بلا سوچے سمجھے کسی حق بات کو ہی کیوں نہ مان لے۔کیونکہ کہ خواہ وہ حق پر ہو اللہ تعالیٰ اس سے یہ کہے گا کہ تمہیں کیونکر پتہ لگا تھا کہ یہ سچ ہے تم نے تو بلا سوچے سمجھے ہی یہ بات مانی تھی۔