تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 497

کے اندر پیدا کی ہیں محسوس کرکے اپنے لئے ایک نیک راہ تجویز کرتا ہے۔تو اسے شعور کہتے ہیں اور جب محنت کرکے انسان جب یہ سوچتا ہے کہ فلاں چیز میرے لئے فائدہ مند ہے یا نہیںتو اس کام کا نام فکر ہوتاہے۔قرآن کریم نے اس کی طرف بھی بار بار توجہ دلائی ہے کیوں کہ یہ قوت بیرونی علم سے نتائج اخذ کرنے میں مدد دیتی ہے اسی کے ایک پہلو کا نام عقل بھی ہے۔عقل اس قوت کو کہتے ہیں جو انسان کو علم ؔ۔فکر ؔاور شعورؔ کے مطابق کا م کرنے کی توفیق بخشتی ہے۔عقل ؔ کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ انسان سوچتا اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ چیز میرے لئے مضر ہے یا مفید۔جب وہ فیصلہ کرے کہ فلاں چیز میرے لئے مضر ہے اور جب یہ حِسّ اسے بری چیز سے روک دے تو اسے عقل کہتے ہیں یعنی بدی کی طرف لےجانے والی چیز سے روکنے والی عقل ہے۔اسی کی طرف قرآن کریم نے تفقّہ ؔ کے لفظ سے بھی توجہ دلائی ہے۔تفقّہؔ کے معنے ہوتے ہیں۔کسی چیز کی باریکی کو پا لینا۔فرماتا ہے تمہارے سامنے کئے چیزیںآتی ہیں۔مگر تمہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ان سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔یوں دیکھنے میں ایک مرغا۔ایک کتا اور ایک بلی انسان کے شریک ہیں پھر تمہارے دیکھنے اور ان کے دیکھنے میں کیا فرق ہے۔وہ فرق یہی ہے کہ تم ایک چیز کو دیکھ کر نتیجہ نکال لیتے ہو۔لیکن مرغا اور بلی اور کتا اسے دیکھ کر کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتا۔بلی اور کتا اگر ایک درخت دیکھتے ہیں تو انہیں اتنا ہی نظر آتا ہے کہ ایک لمبا سا ڈنڈا کھڑا ہے۔لیکن انسان صرف یہی فیصلہ نہیں کرتا کہ یہ ایک درخت ہے بلکہ وہ یہ بھی فیصلہ کرتاہے کہ اسے پھل کیا لگتا ہے۔کس موسم میں لگتا ہے اور کس موسم میں نہیں لگتا۔وہ پھل غذا کے کام آتا ہے یا دوا کے کام آتا ہے یا اس درخت سے محض سائے کا کام لیا جاسکتا ہے۔لیکن بکری ان باتوں کو نہیں جانتی۔گیدڑ اتنا ہی جانتا ہے کتّا اتنا ہی جانتا ہے کہ دھوپ لگے تو درخت کے سائے میں بیٹھ جاؤ لیکن انسان کسی درخت کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی لکڑی مضبوط ہے اور وہ اسے کاٹ کر دروازے بنا لیتا ہے۔کسی کے متعلق سمجھتا ہے کہ یہ لکڑی بوجھ زیادہ اُٹھا سکتی ہے اس کے وہ شہتیر اور بالے بنا لیتا ہے۔کسی کے متعلق سمجھتا ہے کہ اس کی لکڑی پانی کو زیادہ برداشت کرنے والی ہے اور وہ اس لکڑی کو ایسے مقامات پر استعمال کرتا ہے جہاں بارشیں زیادہ ہوں۔کسی کے متعلق سمجھتا ہے کہ یہ محض جلانے کے کام آسکتی ہے چنانچہ وہ اس کا ایندھن بنا لیتا ہے یا اسے کوئلہ کے لئے استعمال کرتا ہے۔غرض لکڑی وہی ہے۔جانور بھی اس کو دیکھتا ہے اور انسان بھی اس کو دیکھتا ہے۔انسان اس کے کئی کئی استعمال نکال لیتا ہے لیکن جانور آدمؑ کے وقت سے صرف سایہ کے نیچے بیٹھنا جانتاہے اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔پھر قرآن کریم نے ایک اور طرح بھی اس طرف توجہ دلائی ہے اور اس کا نام استنباط رکھا ہے۔استنباط کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ مختلف واقعات کو لے کر انسان ان سے ایک نتیجہ نکالتاہے۔گویا وہ اپنی قوتِ فکر سے ایک نئی چیز اُگاتا