تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 496

سو عزت وہی ہوتی ہے جو خدا دے مال و دولت سے عزت نہیں ملتی۔کافروں کا نبیوں پر ایمان لانے والوں کو اس لئے ذلیل سمجھنا کہ وہ غریب ہیں اول درجہ کی حماقت ہے جو نبی پر پہلے ایمان لاتے ہیں وہی سب سے زیادہ معزز ہوتے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ابو بکرؓ۔علیؓ۔زیدؓایمان لائے۔مکہ کے صنادید کی موجودگی میں ابوبکر ؓ کو مسلمانوں نے خلیفہ تسلیم کیا۔جس پر ان کے باپ نے بھی تعجب کیا۔(البدایۃ والنھایۃ الجزء السابع فصل وقعۃ القادسیۃ ذکر من توفی فی ھذا العام۔۔۔۔)مگر ابوجہلؔ۔عتبہؔ۔اور شیبہؔ کی عزت توابو بکرؓاورعلیؓکی جوتیوں کے برابر بھی نہیں۔یہی بات حضرت نوح ؑنے اپنے مخالفین کے سامنے پیش کی اور کہا کہ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔بیشک یہ تمہیں حقیر نظر آتے ہیں۔مگر مجھے کیا معلوم کہ ان کی وہ کون سی چُھپی نیکیاں تھیں جن کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کو یہ شرف بخشا کہ انہوں نے اپنے زمانہ کے نبی کو قبول کرلیا۔اور تمہاری وہ کون سی بداعمالیاں تھیں جو تمہاری راہ میں حائل ہوگئیں اورجنہوں نے تم سے نورِ بصیرت چھین لیا اور تم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے سے محروم رہ گئے۔اور جب ان کی نیکیوں کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ نے ان پر اتنا بڑا انعام نازل کیا ہے کہ انہیں ایک نبی کو ماننے کی سعادت حاصل ہوگئی ہے تو یہ لوگ ذلیل کس طرح ہوئے۔ذلیل تو وہ لوگ ہیں جن کی بداعمالیوں نے انہیں اللہ تعالیٰ کے مامور کی شناخت سے محروم کردیا ہے۔پھر فرمایا اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّيْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ۔بیشک یہ آج غریب اور کنگال ہیں۔کوئی مال اور جائداد ان کے پاس نہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور وہ ایک دن انہیںبہت بڑی ترقی عطا کرے گا۔کاش تم شعور سے کام لیتے۔اور اس قسم کے بیہودہ عذرات سے کام لے کر خدائی ہدایت کو ٹھکرانے کے لئے تیا ر نہ ہوجاتے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس مضمون کو مختلف مقامات میں مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے۔کسی جگہ تو فرماتا ہے کہ ہمارے مخالف شعور سے کام نہیں لیتے اور کسی جگہ فرماتا ہے کہ ہمارے مخالف علم سے کام نہیں لیتے۔شعور اس حِس کو کہتے ہیں جو انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور علم اس حِسّ کو کہتے ہیں جو باہر سے آتی ہے۔خواہ سن کر یا دیکھ کر یا چھو کر یا چکھ کر۔مثلاً ہم چلے جارہے ہوتے ہیں کہ ہمیں ایک جنگل نظر آتا ہے جسے دیکھ کر ہمارا علم بڑھتا ہے۔یہ علم باہر سے پیدا ہوتا ہے اندر سے نہیں۔یا کسی شخص کو کوئی چیز چکھ کر جس ذائقہ کا پتہ لگتا ہے وہ علم کہلاتا ہے۔اس کے مقابلہ میںبعض دفعہ ہم بیٹھے بیٹھے محسوس کرتے ہیں کہ ہماری کیا ضرورتیں ہیں۔ہماری قوم کی کیا ضرورتیں ہیں۔ہمارے بچوں کی کیا ضرورتیں ہیں۔ہمارے خاندان کی کیا ضرورتیں ہیں۔یہ چیز جب قدرتی طور پر آپ ہی آپ پید ا ہو تو اسے شعور کہتے ہیں۔گویا انسان جب ان جبلی طاقتوںکو جو اللہ تعالیٰ نے خو د اس