تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 494
کھینچ لیتا ہے۔مگر ایسا بہت شاذ ہوتا ہے اور شاذ پرکسی قانون کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔عام قانون یہی ہے کہ جو لوگ خدا نما وجود ہوتے ہیں انہی کے ذریعہ انسان کو روحانی ترقی ملتی ہے اور اس ترقی کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان دنیوی محبتوںکو سرد کرکے ان کی محبت کو اپنے اوپر غالب کرلے۔جب وہ ان کی محبت کو غالب کرلیتا ہے تو ان کی اطاعت کرنا اور ان کا نمونہ اختیارکرنا اس کےلئے آسان ہوجاتا ہے۔اس وقت وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی غیر ہے جس کی میں اقتداء کررہا ہوں۔بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ میر اباپ ہے اور اس کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اسی نکتہ کی طرف اپنی قوم کو توجہ دلائی کہ اگر تم نجات حاصل کرنا چاہتے ہوتو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیارکرو۔اور میری اطاعت کا جؤااپنی گردنوں پر رکھو کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے تمہاری ہدایت کےلئے مبعوث فرمایا ہے۔قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ۰۰۱۱۲قَالَ وَ مَا انہوں (یعنی کافروں) نے کہا کہ کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ نہایت حقیر لوگ تیرے متبع ہوئے ہیں۔عِلْمِيْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَۚ۰۰۱۱۳اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّيْ اُ س نے کہا مجھے کہاں سے علم آیا ہے کہ ان کے اندر ونی اعمال کیسے ہیں۔ان کا حساب کرنا تو میرے رب کے لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ۰۰۱۱۴وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۱۵ ذمہ ہے۔اگر تم سمجھو۔اور جو شخص مومن ہوکر میرے پاس آتا ہے میرا کام نہیں کہ میں اسے دھتکاروں۔اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌؕ۰۰۱۱۶ میں تو صرف ایک کھلا کھلا ہوشیا ر کرنےوالا انسان ہوں۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر ہمیشہ یہ اعتراض ہوتا چلا آیا ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ہوا کہ اس کے ماننے والے تو ادنیٰ لوگ ہیں ہم اس کی بات کس طرح مان لیں۔حضرت نوح علیہ السلام نے کیا ہی اچھا جواب دیا کہ ہدایت دینا تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر اس نے ان کو ہدایت کے قابل سمجھا تو ہدایت دے دی۔پس جب اس کے نزدیک ان کے عمل اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے سے ہیں تو میں ان کو کس طرح دھتکار سکتا