تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 45
آیت میں بتا یا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کریم کو انسانی کلام سمجھتے ہیں تو پھر کیوں وہ الٰہی خوبیوں جیسا کوئی اور کلام تیار کر کے نہیں دکھا دیتے۔جس طرح قرآن کریم میں ہر ضروری دینی مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے اسی طرح وہ بھی کوئی اور ایسا کلام تیار کروا دیں جس میں عبادات اور معاملات اور اخلاق اور اقتصاد اور سیاسیات وغیرہ کے متعلق بنی نوع انسان کے سامنے ایک جامع تعلیم پیش کی گئی ہو اور جس میں کسی ایک قوم یا طبقہ کا فائدہ ملحوظ نہ رکھا گیا ہو بلکہ تمام دنیا کی ضروریات اور اُن کے فوائد پر نظر رکھتے ہوئے اُن کی دینی اور دنیوی بہبودی کے لئے ایک کامل اور بے عیب قانون پیش کیا گیا ہو۔اگر وہ ایسا کر دیں تو پھر اُن کا یہ دعویٰ ثابت ہو جائےگا کہ اس قرآن کی تیاری میں اور لوگوں کا ہاتھ ہے۔لیکن اگر وہ ایسا نہ کر سکیںاور قیامت تک نہیں کر سکیں گے تو پھر ثابت ہو جائےگا کہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا غلط کہا تھا۔چنانچہ دیکھ لو باوجود اس کے کہ قرآن کریم کے اس دعویٰ پر چودہ سو سال گذر چکے ہیں اور دنیا نے قرآن کریم کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی پھر بھی وہ آج تک اس قرآنی چیلنج کو قبول نہیں کر سکی اور اس طرح اپنے عجز اور بے چارگی سے وہ ثابت کر چکی ہے کہ یہ کلام انسانوں کا بنایا ہوا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا نازل کر دہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی کوئی انسان طاقت نہیں رکھتا۔وَ قَالُوْا مَالِهٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ کھانا بھی کھاتا ہے اوربازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ کیوں نہ اس پر فرشتہ اتار ا گیا جو اس کے ساتھ کھڑا ہو کر لوگوں کو ہوشیار کرتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا جاتا نَذِيْرًاۙ۰۰۸اَوْ يُلْقٰۤى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس کے پھل وہ کھاتا۔اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جس کو کھانا کھلایا جاتا ہے دیکھ!