تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 483

بالعموم اعتراض کیا کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے باپ کا نام آزر قرار دے کر غلطی کی ہے۔حالانکہ بائیبل نہ تو کوئی تاریخ کی کتاب ہے اور نہ ہی ہم پر حجّت ہے۔اس کے اپنے بیانات اس قدر متضاد اور ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں اسے کسی طرح درست نہیں مانا جاسکتا۔بائیبل میں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے باپ کا جو نام لکھا ہے وہ لکھنے والے ان کے وقت میں موجود نہ تھے بلکہ سوادو سوسال بعد میں پیدا ہوئے۔پھر ان کی بات تاریخی لحاظ سے کیونکر صحیح مانی جاسکتی ہے۔اور بائیبل کے بیانات کی جو حالت ہے وہ اس ایک مثال سے ہی ظاہر ہے کہ بائیبل میں لکھا ہے۔حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھ جو لوگ مصر سے نکلے تھے ان کی تعداد چھ لاکھ سے اوپر تھی(گنتی باب ۱آیت ۴۶) اور یہ وہ لوگ تھے جو لڑائی کے قابل تھے۔اس لحاظ سے گویا کُل مرد عورتیں اور بچے چوبیس پچیس لاکھ ہو گئے۔مگر یہ بالکل ناممکن ہے کہ سوادو سو سال میں بنی اسرائیل کی تعداد اس قدر بڑھ جائے۔زیادہ سے زیادہ یہ تعدادچار ہزار تک بڑھ سکتی ہے بشرطیکہ ان میں کوئی عورت بانجھ نہ ہو اور کوئی مرد نامرد نہ ہو۔گویا اگر نسل کی انتہائی ترقی مدّنظر رکھی جائے جو دنیا میں کسی قوم کی نہیں ہوئی۔اور یہ تسلیم کر لیں کہ ہر چالیس سال میں ان کی تعداد دگنی ہوجاتی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ان کی تعداد چار ہزار ہونی چاہیے۔مگربائیبل کہتی ہے کہ ان میں چھ لاکھ سے اوپر جوان لڑنے والے تھے۔گویا اس وقت بنی اسرائیل کی تعدادچوبیس پچیس لاکھ کے قریب تھی۔یہ بات حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کی بیان کی جارہی ہے۔مگر قرآن کریم دو ہزار سال کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کی یہ بات ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ ’’وَھُمْ اُلُوْفٌ‘‘(البقرۃ:۲۴۴)وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔اور یہ وہی تعداد ہے جو بنی اسرائیل کی زیادہ سے زیادہ نسل بڑھنے کے متعلق اندازہ لگا کر میں نے پیش کی ہے۔پس جس کتاب کی یہ حالت ہواُسے تاریخی کتاب کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔وہ تاریخ نہیں بلکہ قصوں اور کہانیوں کی کتاب ہے۔اگر ہم اس کا احترام کرتے ہیں تو اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ورنہ اس میں اتنا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے کہ اب اس کی کسی بات پر پورے طور پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا پھر تورات کہتی ہے کہ حضرت ہارونؑ نے شرک کیا (خروج باب ۳۲ آیت ۲ تا ۶)۔اور اپنے ہاتھ سے پرستش کے لئے بچھڑا بنایا۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ حضرت ہارونؑ نے شرک نہیں کیا(طہ:۹۱) بلکہ انہوں نے دوسروں کو روکنے کی کوشش کی اور یہی بات ایک نبی کی شایان شان ہے۔غرض جبکہ بائیبل کی کئی باتیں تاریخی لحاظ سے غلط ہیں تو یہ کس طرح کہاجاسکتاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا بائیبل نے جو نام بتایا ہے وہ درست ہے اور قرآن کریم نے جو نام بتایا ہے وہ غلط ہے۔اگر بائیبل کا