تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 484
بیان کلی طور پر درست ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام تاراؔ ہی ہوتا تو طالمود ؔ میں ان کے باپ کا نام زارا کیوں لکھا جاتا۔اور جوزیفس جو مشہور یہودی مؤرخ ہے وہ اس کا نام آتھر یعنی آزر کیوں بتاتا (ترجمۃ القرآن از سیلؔ صفحہ۱۷۷،۱۷۸)یہ اختلاف جو خود یہودیوں کے اندر پایا جاتا ہے۔اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے باپ کے نام کے متعلق اختلاف تھا۔اور چونکہ قرآن کریم کا نزول اسی لئے ہوا کہ وہ پہلی الہامی کتب کے پیدا کردہ اختلافات کو دور کرے اس لئے اس نے اس اختلاف کوبھی دور کردیا اور بتادیا کہ اس کا نام آذر ہی تھا۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ تارا سے ہی قرآن کریم نے آزر بنا لیاہو۔کیونکہ تؔ زؔ سے بدل جاتی ہے۔اور قلب کے ذریعہ الف پہلے آجاتاہے معلوم ہوتا ہے عربوں کی زبان پر تارا کا لفظ نہیں چڑھتا تھا۔انہوں نے تارا کو زارا بنا لیا اور پھر زارا سے آزر بن گیا۔چونکہ قرآن کریم عموماً معرّب نام استعمال کرتا ہے۔جیسے ابراہام کو ابراہیم۔اور یسوع کو عیسیٰ اور یوحنا کو یحییٰ اور حنوک کو ادریس کہا گیا ہے۔اسی طرح تاراکو زارا کہہ دیا گیا ہے۔پس یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ ہم تو یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ اس جگہ اَب سے ان کا حقیقی باپ مراد ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اس جگہ اَب کا لفظ چچا کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اسی لئے دوسرے مقام پر جب انہو ں نے اپنے والدین کے لئے دعا کی تو وہاں اَب کی بجائے والد کا لفظ استعمال کیا۔پس جبکہ ہم آزر ان کے چچا کا نام سمجھتے ہیں تو بائیبل میں اگر ان کے باپ کا نام تارا آگیا ہے تواس سے قرآن کریم پر کیا اعتراض پڑ سکتا ہے۔اگر بائیبل ان کے چچا کانام تارا بتا تی تب تو یہ اعتراض ہوسکتا تھا۔لیکن بائیبل تو ان کے حقیقی باپ کا نام تاراؔ بتا تی ہے اور قرآن کریم ان کے چچا کانام آزر ؔ بتاتا ہے ان دونوںکا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں کہ ایک نام کو دیکھ کر دوسرے نام پر اعتراض کردیا جائے۔اس کی مزید تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ بائیبل حضرت سارا کو جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی تھیں تارہؔ کی بیٹی قرار دیتی ہے۔(پیدائش باب ۲۰آیت ۱۲)اگر تارا کو ان کا حقیقی با پ سمجھا جائے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں۔کہ آپ نے اپنی سگی بہن سے شادی کی حالانکہ بہن سے شادی کرنا ناجائز تھا۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دراصل وہ باپ نہیں بلکہ چچا تھا۔مگر چونکہ ان کی پرورش اپنے چچا کے گھر میں ہی ہوئی تھی اس لئے لوگوں کو غلطی لگ گئی اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تاراؔ کی طرف منسوب کرنا شروع کردیا۔اورپھر مؤرخین نے بھی اسے آپ کا باپ قرار دے دیا۔اس مقام پر بھی طالمودؔ نے بائیبل کی اصلاح کی ہے اور بتایا ہے کہ حضرت ساراؔ ان کے بھائی کی بیٹی تھیں۔ان کی حقیقی بہن نہیں تھیں پھر طالمود ؔ میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بتوں کے خلاف آواز بلند کی تو آذر نے تنگ آکر بادشاہ کے پا س اُ ن کی شکایت کی اور انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی۔اس فعل کی بھی عقلی لحاظ سے ایک باپ سے