تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 481
جس سے مراد خورس شاہ ایران ہے ان پر خدا ظاہر ہورہا تھا اوریہ وہ لوگ تھے جنہوں نے الہام کا دعویٰ کیا۔اور یہ وہ لوگ تھے جو اہلِ عرب کے دائیں بائیں مبعوث ہوئے تو اس کے بعد اگر عرب میں کچھ وقفہ بھی ہوا تب بھی وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہمیں پتہ نہیں شرک بری چیزہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ باربار ان انبیا ء کے ذریعہ پیش کیا جا چکا تھا۔اوریہ انبیا ء وہ تھے جو اہلِ عرب کے دائیں بائیں مبعوث ہوئے اور جن کے حالات اور جن کی تعلیم سے وہ لوگ بے خبر نہیں ہوسکتے تھے۔اگر اس طرح ہم دیکھیں تو فترت کا زمانہ بہت ہی قلیل رہ جاتا ہے جب خدا کا نور کہیں نظر نہ آتا ہو۔اہلِ عرب پر بیشک فترت کا کچھ لمبا زمانہ نظر آتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی برکت کی وجہ سے اوردوسری طرف اہل عرب پر اس رحم کی وجہ سے کہ انہوں نے فترت کا ایک لمبا دور برداشت کیا تھا اپنے خاتم النبیین کو عربوں میں مبعوث فرما دیا اور اس طرح اس کمی کا ازالہ ہوگیا۔بہرحال لوگوں کے خلافِ توحید اعمال اس وجہ سے معاف نہیںہوسکتے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ان پر حجت قائم کرنے کے لئے مبعوث نہیں ہوا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عذر کو ہمیشہ توڑتا رہتاہے اور وہ انبیا ء کے ذریعہ لوگوں پر حجت قائم کردیتا ہے خواہ یہ حجت انبیا ء کی جسمانی زندگی میں ہو خواہ ان کی فیضانی زندگی میں ہو۔لیکن وہ لوگ جو نہ تو انبیا ء کی جسمانی زندگی کے زمانہ میں موجود ہوتے ہیں اور نہ ان کی فیضانی زندگی میں موجو د ہوتے ہیں ان کا معاملہ ایک جداگانہ نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوبارہ اپنا رسول بھیجے گا۔اور پھر اس کی اطاعت کرنے والوں یا اس کا انکار کرنے والوں کو اپنے اپنے عمل کے مطابق جزاد ی جائے گی(تفسیر رُوح المعانی جلد ۴صفحہ ۴۹۶)۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کے زمانہ میں احکامِ الٰہی کی جو اہمیت ہوتی ہے وہ فترت کے زمانہ میں نہیں ہوتی۔جب کسی نبی کی فیضانی زندگی بھی ختم ہو چکی ہو یا اس فیضانی زندگی میں کوئی وقفہ پڑ چکا ہو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ فیضانی موجودتھی مگر چونکہ کوئی ایسا بندہ موجو دنہیں تھا جو بنی نوع انسان پر آپؐ کی روحانیت کا پر تو ڈالتا اور آپؐ کا نور اپنے آئینہء قلب میں جذب کر کے اس کی شعاعوں سے دوسروں کو منور کرتا اس لئے امت محمدیہ پر بھی فترت کا زمانہ آگیا۔مگر وہ فترت کا زمانہ بہت ہی تھوڑا تھا۔آخر حضرت سید احمد صاحب شہید بریلوی ؒ کے وفات پاتے ہی ان کے تمام شاگرد تو اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوگئے تھے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ ان کی وفات کے ساتھ ہی فتر ت کا زمانہ شروع ہوگیا تھا۔آپ کی شہادت ۶؍مئی ۱۸۳۱ء کو ہوئی ہے(سید احمد شہید از غلام رسول مہر صفحہ ۴۱۴ زیر عنوان کیفیت شہادت) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ۱۸۶۴ء کے قریب الہامات شروع ہوگئے تھے اور ۱۸۷۲ء میں آپ ؑنے اسلام کی صداقت کے متعلق مضامین