تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 473
سال بعد جب یہ جنگل آباد ہو تو اس وقت یہ نسل ان کو تبلیغ کرے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اشوک کے زمانہ میں یا بکر ماجیت کے زمانہ میں کوئی پنتھ یا ودوان یا سناتنی یا جینی اپنی اولاد کو سرگودھا بار یا منٹگمری بار میں اس لئے بساتا کہ کبھی نہ کبھی یہ علاقہ آباد ہو گا اور جب یہ علاقہ آباد ہو گا تو اس وقت یہ خدا کا نام لیں گے۔یہ کتنی لانگ ٹرم پالیسی ہے دو ہی بیٹے ہیں ایک کوتو آباد علاقہ میںبھیج دیا تاکہ وہ وہاں تبلیغ کر ے اور دوسرے کو وادی غیر ذی رزع میں بٹھا دیا تاکہ جب وہ آباد ہو تو اس کی نسل وہاں تبلیغ کرے۔اتنی لانگ ٹرم پالیسی میرے نزدیک نہ سیاسی لحاظ سے نہ تجارتی لحاظ سے نہ سائینس کے لحاظ سے نہ کسی قوم نے نہ کسی قبیلہ نے نہ کسی خاندان نے نہ کسی علمی گروہ نے اور نہ کسی فلسفی جماعت نے اختیار کی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تبلیغ کے لئے اختیار کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے چند دنوں کا سوال نہ تھا۔بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سالوں کا سوال تھا کسی کو علم نہیں تھا کہ عرب کب آباد ہو گا اور کتنی دیر تک ان کی اولاد کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تمام واقعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ارادہ کے ساتھ الہام الٰہی بھی شامل تھا لیکن اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کی قلبی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ہی اس کے مطابق الہام نازل فرماتا ہے اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی کیفیت ایسی نہ ہوتی اور ان کے جذبات ایسے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو کبھی اپنے بچے کو قربان کرنے کا حکم نہ دیتا۔اگر ان کے دل میں یہ تڑپ نہ ہوتی کہ ان کا بچہ خدا کی راہ میں قربان ہو تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے یہ کبھی سامان پید انہ کرتا۔اللہ تعالیٰ کا یہ سامان پیدا کرنا بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں یہ تڑپ موجود تھی اور اسی تڑپ کی وجہ سے ہم کہتے ہیں اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ جب ہم درود پڑھتے ہیں تو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ جذبہ یاد آجاتا ہے اور ہمارے دلوں میںبھی یہ خواہش موجزن ہوتی ہے کہ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہو اور کیا آبادیاں اور کیا ویرانے ہر جگہ اللہ اکبر کی آواز بلند ہو۔ڈلہوزی سے قریباً بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے جس کو کھجیار کہتے ہیں اس میں ایک تالاب ہے اور اس تالاب میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو تیرتا پھرتا ہے۔معلوم نہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی قدرت سےوہ حصہ زمین سے علیحدہ ہوگیا۔اس جزیرہ میں گھاس اور مٹی کے سوا کچھ نہیں۔وہ تالاب جس میں وہ جزیرہ تیرتا ہے قریباً دو سو فٹ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ہے اور وہ جزیرہ تیس پینتیس فٹ کے قریب لمبا چوڑا ہے اور ہوا کے چلنے سے ہلتا اور ایک طرف سے دوسری طرف چلا جاتا ہے۔ہندوؤں کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کوئی خاص کرشمہ ہے وہاں ایک مندر ہے جو ایک سادھو کی یادگار کے طور پر بنایا گیا ہے اس سادھو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اس تالاب کی تہہ کا پتہ لگانے کے