تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 472
پکڑ کر کہنے لگا بادشاہ سلامت پھلدار درخت سال میں ایک دفعہ پھل دیتے ہیں بعض درخت ایسے بھی ہوتے ہیں جو سال میں دو دفعہ پھل دیتے ہیں پھر بعض ایسی فصلیں بھی ہوتی ہیں جو مہینہ دو مہینہ کے بعد کاٹی جاتی ہیں غرض کوئی فصل ایسی نہیں کہ جس دن اسے اگایا جائے اسی دن وہ پھل دے دے یا کسی قسم کا اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔لیکن میں نے ایک منٹ میں دو دفعہ پھل کھا لیا ہے۔بادشاہ نے کہا ’’زہ‘‘۔اس پر وزیر نے جھٹ تیسری تھیلی کسان کو دے دی۔اس کے بعد بادشاہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے نے تو ہمیں لوٹ لینا ہے آگے چلو۔اب دیکھو بوڑھے نے پھل کا درخت لگایا تاکہ آئندہ نسلیں کھائیںیہ ’’ لانگ ٹرم پالیسی‘‘ کہلاتی ہے لانگ ٹرم پالیسی میںلوگ بڑی بڑی قربانیاں کر تے ہیں وہ زمینیں خریدتے ہیں اس غرض سے کہ ہمارے بیٹوں کے کام آئیں اور وہ مشکلات میںنہ پھنسیں لیکن میں نے کسی زمیندار کو نہیں دیکھا کہ اس نے اپنے پوتوں کے لئے زمینوں کا انتظام کیا ہو۔اگر چہ یہ بھی ایک لانگ ٹرم پالیسی ہے کہ بیٹوں کے مفاد کے لئے زمین خریدی جائے۔لیکن بڑے بڑے زمیندار بھی اپنےپوتوں کے لئے زمینیں نہیں خریدتے صرف بیٹوں کا خیال رکھتے ہیں۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے اور اس کا اکثر حصہ زمینداروں کا ہے اور ان میں بڑے بڑے امیر زمیندار ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے اس غرض سے زمین خریدی ہو کہ پوتوں کے کام آئے پھر ہزاروں غیراحمدی ہندو اور عیسائی ہیں جو مجھ سے ملتے ہیں مشورہ کرتے ہیں اور دعاؤں کے لئے کہتے رہتےہیں اور میں ان کی حالت جانتا ہوں لیکن میں نےان میں سے بھی کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ اس غرض سے زمین بڑھا رہا ہو یا مال جمع کر رہا ہو کہ اس کے پوتوں کے کام آسکے۔ہر ایک اس لئے بڑھاتا ہے کہ اس کے بیٹے کے کام آسکے۔پوتے کا کسی کو خیال ہی نہیں آتا۔لیکن اس کے مقابل پر ابراہیم کی لانگ ٹرم پالیسی دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے آپ نے ایک بیٹے حضرت اسحاق ؑکو کہا کہ آباد ملک میں جاکر تبلیغ کرو۔اور دوسرے بیٹے کو مکہ میں جو کہ وادی غیر ذی زرع تھی چھوڑ آئے۔اس غرض سے کہ ڈیڑھ ہزار سال بعد جو قوم یہاں آباد ہو چکی ہوگی اس کو ایک رہبر کی ضرورت ہو گی اور اس وقت میری یہ نسل خدا تعالیٰ کا نام بلند کرےگی۔اب دیکھو یہ کتنی بڑی لانگ ٹرم پالیسی ہے کہا جاتا ہے کہ دو دن کے بعد قبیلہ جرہم کے لوگ وہاں آکر آباد ہو گئے تھے لیکن وہ بھی کتنے ہوں گے زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ ہوں گے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔اور گو یہ لوگ وہاں آکر آباد بھی ہوگئے لیکن پھر بھی مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانہ میں تو نہیں بنا بلکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد ڈیڑھ ہزار سال اس کو آباد ہوتے لگے۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وادی غیرذی زرع میں اس لئے بٹھایا تا ڈیڑھ ہزار