تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 468

کا درخت پھل دے سکتا ہے اتنا اسے پھل لگا دے۔تاکہ جس طرح وہ سنگترہ اپنی جنس میں کمال کو پہنچ گیا تھا اسی طرح یہ بھی اپنی جنس میں کمال کو پہنچ جائے۔تو اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ کے یہ معنے ہیں کہ جس طرح قومی نبیوں میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی ذات میں کمال کو پہنچ گئے تھے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو جمیع عالم کی طرف نبی ہیں اور ایک الگ جنس ہیں اس میں وہ اپنے کمال کو پہنچ جائیں۔جیسے سنگترہ اور ہے اور بڑ یا آم اور۔جب ہم کہیں گے کہ سنگترہ کی طرح آم اپنے کمال کو پہنچ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ وہ ایک ہزار پھل دے بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ آم آٹھ دس ہزار پھل دے۔اسی طرح جب ہم یہ کہیں گے کہ سنگترے کی طرح بڑ اپنے کمال کو پہنچ جائے تو اس کایہ مطلب نہیں ہو گا کہ وہ بیس پچیس فٹ اونچا ہوجائے بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ وہ دو سو فٹ اونچا ہو جائے۔تو در حقیقت درود کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح ابراہیم ؑاپنی جنس میں کمال درجہ کا وجود تھا۔اسی طرح اے خدا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جو جمیع عالم کی طرف نبی ہیں ان کی جنس کے لحاظ سے جو سب سے بڑا درجہ ہے انہیں عطا کر یعنی اس کو جتنا بڑا ہوناچاہیے اتنے بڑے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو جائیں اور اس کا جتنا پھیلاؤ ہو نا چاہیے اتنا پھیلاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہو جائے۔اور جتنا اسےپھل لگنا چاہیے اتنا پھل ان کو لگ جائے۔گویا درود میں ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا جس طرح ابراہیم ؑ اپنی محدود جنس میں کمال کو پہنچا ہےاسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا میں اپنے کمال کو پہنچ جائیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی نے ایک بکری لی۔اور اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت ڈالی کہ اس نے ڈیڑھ سیر دودھ دینا شروع کر دیا اور دو بچے ششماہی دینے شروع کر دیئے اس کے بعد جب کوئی شخص گائے لے گا۔تو وہ کہے گا اے خدا جس طرح تو نے فلاں کی بکری میں برکت ڈالی تھی اسی طرح میری گائے میں بھی برکت ڈال دے۔اب کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ یہ گائے ڈیڑھ سیر دودھ دینے لگ جائے۔اور ہر چھٹے مہینے دو بچے دے دے۔کبھی کسی گائے نے ایسا نہیں کیا۔اچھی گائے کبھی بھی ڈیڑھ سیر دودھ نہیں دیتی اور نہ ہی کوئی گائے چھ ماہ میں دو بچے دیتی ہے۔بلکہ اس کی دعا کا مفہوم یہ ہوگا کہ جس طرح فلاں بکری بکریوں میں اچھی ثابت ہو ئی ہے اسی طرح یہ گائے گائیوں میں اچھی ثابت ہو تو اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ کے یہی معنی ہیں کہ جس طرح ابراہیم ؑ اپنی قسم کے لوگوں میں سے انتہائی درجہ کے کمال کو پہنچ گئے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام کے لحاظ سے کمال کو پہنچ جائیں۔ابراہیم ؑ بنی اسرائیل کے لئے تھے جس طرح انہوں نے بنی اسرائیل میں اپنا کمال دکھایا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم