تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 467
کے ساتھ نسبت دینے میں آپ کی ہتک خیال کرتے ہیں۔اور یہ سوال کیا کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل تھےتو اللہ تعالیٰ نے درود میں اپنی برکات اور انعامات کے نزول کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کیوں مثال دی سو اس بارہ میں ایک نکتہ یاد رکھنا چاہیے جس سے یہ سوال بالکل حل ہو جاتا ہے دنیا میں اگر ایک شخص سنگترے کا درخت لگائے تو سنگترہ اپنی ذات میں کچھ خاصیتیں رکھتا ہے۔مثلاً یہ کہ وہ ایک خاص حد تک اونچا ہو سکتا ہے ،ایک خاص حد تک پھیل سکتا ہے اور ایک خاص حد تک پھل دے سکتا ہے۔اعلیٰ درجہ کا سنگترہ پندرہ بیس فٹ تک اونچا ہو تا ہے۔پس اگر وہ سنگترہ بیس فٹ تک اونچا ہوجائےتو سارےلوگ کہیں گے کہ سنگترہ اپنے کمال کو پہنچ گیا۔اگر ایک سنگترہ پچیس فٹ کے گھیر میں پھیل سکتا ہے اور وہ اتنا پھیل جاتا ہے تو لوگ کہیں گے کہ اس سنگترے نے کمال کر دیا اگر ایک سنگترہ زیادہ سے زیادہ ایک ہزار پھل دے سکتا ہے اور وہ ایک ہزار پھل دے دیتا ہے تو ہم کہیں گے اس سنگترے نے کمال کر دیا لیکن اس کے مقابل میں بڑ کا درخت لے لو۔بڑ کا درخت دو سو فٹ تک اوراونچا ہو جاتا ہے اور عا م درخت اسی نوے فٹ کے ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص بڑ لگائے اور وہ پچیس فٹ کا ہوجائے۔یا اگر اس کا پھیلاؤ ڈیڑھ دو سو فٹ ہو سکتا ہے اور اس کا پھیلاؤ بیس پچیس فٹ ہو جائے اور کوئی کہہ دے کہ اس نے کمال کر دیا تو ہم اس کو بیوقوف کہیں گے۔یا فرض کر و کسی نے بیر کا درخت لگایا بیر کا درخت ایک ہزار نہیں بلکہ بیس ہزار کے قریب پھل دیتا ہے۔اب اگر بڑ کا درخت پچیس فٹ اونچا ہو جائے اور پچیس فٹ اس کا گھیر ہو جائے۔اور بیر کا درخت ایک ہزار بیر دے اور کوئی کہے کہ چونکہ بڑ کا پھیلاؤ سنگترے جتنا اور بیر کو پھل بھی سنگترے جتنا لگا ہے اس لئے انہوں نے تو کمال کر دیا ہے تو ہم کہیں گے یہ احمقانہ بات ہے یہ چیز ان درختوں کے کمال کا ثبوت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ درخت ناقص ہیں۔پس ہرکمال نسبت کے لحاظ سے ہوتا ہے مثلاً ہم نے سنگترہ لگایا اور خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ سنگترہ جتنا اونچے سے اونچا ہو سکتا تھا ہو گیا۔جتنا زیادہ سے زیادہ پھیل سکتا تھا پھیل گیا اور جتنا زیادہ سے زیادہ پھل دے سکتا تھا اتنا پھل اس نے دے دیا۔پھر ہم نے آم کا درخت لگایا۔اب اگر آم کا درخت لگاتے ہوئے ہم کہیں گے کہ اے خدا ! تو اس میں ایسی ہی برکت دے جیسے سنگترے میں دی تھی۔تو کوئی شخص اس کے یہ معنے نہیں کرے گا کہ اے خدا ! اس کو بیس فٹ اونچا کردے۔اسی طرح کوئی اس کے یہ معنے نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ اس کا گھیر پچیس فٹ کر دے اور کوئی شخص اس کے یہ معنے نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ اس کو ایک ہزار پھل لگا دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے خدا ! جتنا زیادہ سے زیادہ آم کا درخت پھیل سکتا ہے تو اسے پھیلا دے اور جتنا زیادہ سے زیادہ آم کا درخت اونچا ہو سکتا ہے اتنا ہی اسے اونچا کردے اور جتنا زیادہ سے زیادہ آم