تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 43
کہ وہ تم کو بھی سزا نہیں دے گا۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم بڑا جتھا رکھتے ہیں اور ہم ان مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے۔سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ بیشک ان کفار کی طرف سے حملے ہوںگے اور قوموں کی قومیں اکٹھی ہو جائیں گی اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ؓ پر حملہ کریں گی۔لیکن سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ اُن کے لشکر جو اکٹھے ہوںگے اُن کو شکست دی جائےگی وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ اور وہ پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ جائیں گے۔پھر فرماتا ہے بَلِ السَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرُّ یہ جو تم پر تباہی کی گھڑی آئے گی یہ فرعون کی گھڑی سے بھی زیادہ خطرناک ہو گی۔اب بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ فرعون کی گھڑی سب سے زیادہ خطرناک تھی کیونکہ وہ ڈوب گیا اور اس کی فوج تباہ ہوگئی۔لیکن فرماتا ہے کہ تمہاری تباہی فرعون کی تباہی سے بھی زیادہ خوفناک ہو گی۔چنانچہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو واقعہ میں کفّار مکہ کو فرعونیوں سے زیادہ سخت سزا ملی۔موسیٰ ؑ کو اپنی زندگی میں مصر کا قبضہ نہیں ملا کیونکہ اُن کے پیروؤں نے کنعان پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دشمن تھا۔اس کو صرف شکست ہی نہیں ہوئی بلکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پر قابض ہو گئے پس مکہ والوں کو موسیٰ ؑ کے دشمنوں سے زیادہ سخت سزا ملی کیونکہ وہ قومی طور پر محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت آگئے۔اب بتائو کیا یہ خبر ایسی تھی جسے کوئی انسان اپنی طرف سے بنا کر پیش کر سکتا تھا۔یا اسے پورا کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔یہ خبر ایسے وقت میں دی گئی تھی جبکہ مسلمان انتہائی کمزوری اور کسمپرسی کی حالت میں تھے اور ان پر عرب کے متحدہ حملہ کا کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا۔مگر کئی سال پہلے عالم الغیب خدا کی طرف سے خبر دی گئی کہ ایک دن مسلمان اتنی طاقت پکڑ جائیں گے کہ کفار متحدہ طور پر ان کو مٹانے کے لئے جمع ہو جائیں گے لیکن اِدھر وہ جمع ہورہے ہوںگے اور اُدھر خدا اپنے رسول کی مددکے لئے دوڑا چلا آرہا ہوگا۔اور جب دشمن وہاں پہنچے گا تو وہاں خدا موجود ہوگا جسے دیکھ کر وہ حواس باختہ ہو جائےگا۔چنانچہ جنگِ احزاب میں دشمن کی چوبیس ہزار فوج مدینہ پر حملہ کرنےکے لئے جمع ہوئی جبکہ مسلمان صرف بارہ سو تھے۔اور پھر ان بارہ سو میں سے بھی پانچ سو سپاہی عورتوں کی حفاظت کے لئے الگ کر لئے گئے تھے۔او ر باقی صرف سات سو سپاہی رہ گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ایسی مدد کی کہ یہ چوبیس ہزار کا لشکر سات سو کے مقابلہ میں بھاگ گیا۔اور خدا نے اپنے رسول کو فتح دی۔اللہ تعالیٰ اسی قسم کے آسمانی اسرار اور پیشگوئیوں کو کفار کے اعتراض کے جواب میں پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے تمہارا یہ کہنا کہ یہ کتاب خدا نے نازل نہیں کی۔بلکہ بعض لوگوں نے مل کر بنا لی ہے بالکل جھوٹ ہے۔کیونکہ اس کتاب میں ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کو کوئی انسانی دماغ وضع نہیں کرسکتا اور جن سے اس کا منجانب اللہ ہونا روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے۔