تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 442

ہے ایسا انسان یقیناً اپنی روحانی ترقی کا راستہ اپنے ہاتھ سے بند کرتا اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنتا ہے۔پھر فرماتے ہیں وَاِذَامَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے شفا بخشتا ہے آپ نے اس جگہ مَرِضْتُ میں مرض کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اورشفا کو خدا تعالیٰ کی طرف۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب انسان کے فائدہ کےلئے پیدا کی ہیں۔جب انسان ان کو غلط استعمال کرتا ہے تو اس وقت وہ بیمار ہوجاتا ہے یا نقصان اٹھاتا ہے اورجب انسان پھر اس کا کسی رنگ میں ازالہ کردیتا ہے اور علاج کرتا ہے تو شفا پاجاتا ہے۔اس لئے مرض تو انسان کی طرف منسوب ہوتی ہے اور شفا خدا تعالیٰ کی طرف۔دنیا میں جتنی مصیبتیں اور بلائیں انسان پر وارد ہوتی ہیں ان پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے غلط استعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا صحیح استعمال کیا جائے تو انسان ان مصائب اور بلائوں سے بچ سکتا ہے۔مثلاً بیماری ہے۔یہ کیوں پیدا ہوتی ہے؟ یہ اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جن سے ان کے اعضائے انہضام بگڑتے ہیں یا وہ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو اپنے وجود میں تو نقصان دہ نہیں ہوتیں۔مگر اعتدال سے زیادہ استعمال کرلینے کی وجہ سے یا غلط استعمال کرنے کی وجہ سے وہ بیمار ہوجاتے ہیں۔مثلاً خربوزہ ہے۔جہاں تک خربوزے کا سوال ہے یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔لیکن اسی نعمت کو اگر اعتدال سے زیادہ استعمال کیا جائے تو مصیبت بن جاتی ہے اور بیماری پیدا ہوتی ہے۔یا آم ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔لیکن حد سے زیادہ کھا لینے سے نقصان ہوتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی نعمتیں ہیں ان کو ایک حد کے اندر استعمال کیا جائے تو فائدہ مند ہیں اورجب حد سے تجاوز کیا جائے تو بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔مثلاً بینگن اور کریلے گرم ہوتے ہیں۔اگر یہ حد کے اندر کھائے جائیں تو نعمت ہیں لیکن حد سے زیادہ کھائے جائیں تو بینگن سے بواسیر اور کریلوں سے پیچش وغیرہ ہوجاتی ہے۔اسی طرح گنّاہے۔اگر اس کا استعمال حد کے اندر کیا جائے تو نہایت فائدہ مند ہے۔لیکن اگر زیادہ استعمال کیا جائے تو پیشاب کی بعض امراض لاحق ہوجاتی ہیں۔اب جہاں تک گنّے کا سوال ہے وہ بیماری پیدا نہیں کرتا۔بیماری پیدا کرنے والی چیز گنّے کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔ورنہ شوگر انسانی جسم کےلئے نہایت ضروری چیزہے۔گلوکوز کو ہی دیکھ لو یہ شوگر ہی ہے۔لیکن ڈاکٹر جب مریضوں کو گلوکوز کاانجیکشن کرتے ہیں تو ان کی چھُوٹی ہوئی نبضیں بھی چل پڑتی ہیں۔پہلے زمانہ میں لوگ ناواقفیت سے ذیابیطس کا علاج کرتے ہوئے شکر کو بالکل ختم کردیتے تھے حالانکہ ان کا باقی رہناضروری ہوتا تھا۔نتیجہ یہ ہوتاتھا کہ کئی لوگ جن کی شوگر بالکل ختم کردی جاتی تھی ان کاہارٹ فیل ہوجاتاتھا۔آج کل بھی انسولین کا ٹیکہ کرتے وقت ڈاکٹروں کو یہ ہدایت ہوتی ہے کہ اگر مریض کے قلب پر اس کا اثر ہو تو فوراً