تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 440

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ مادہ ماں کا پیدا کیا ہوا نہیں توآخر یہ مادہ ماں کے اندر کس نے پیدا کیا ہے۔بہرحال وہ کوئی اور ہستی ہے۔اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ہستی جس نے سب مخلوقات کو پیدا کیا ہے اسی نے یہ مادہ ماں کے اندر رکھا ہے۔مگرہم دیکھتے ہیں کہ بچہ ماں سے محبت کرتا ہے خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کرتا اس لئے کہ خدا تعالیٰ اسے نظر نہیں آتا۔جب اس کی ماں اپنی ماں کے پیٹ میں تھی اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے دل میں اولاد کی خواہش اور محبت پیدا کررہے تھے تو اس نے اس نظارہ کو دیکھا نہیںتھا۔اس نے صر ف اتنا ہی دیکھا کہ ماں اسے اپنی چھاتیوں سے دودھ پلا رہی ہے خواہ وہ فاقہ ہی کررہی ہو اور بھوک کی وجہ سے نڈھال ہورہی ہو۔وہ سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہو۔اُس کا گوشت گھل گیا ہواور ہڈیاں نکل آئی ہوں۔لیکن ادھر بچہ رؤیا اُدھرماں نے اپنے سوکھے ہوئے پستان اس کے منہ میں دے دیئے۔خواہ پستانوں میں دودھ کا کوئی قطرہ ہو یا نہ ہو۔ما ں کے اندر یہ جذبہ کس ہستی نے پید ا کیاہے وہ بچہ کو نظر نہیں آتی۔اس لئے وہ اس سے محبت نہیں کرتا۔ماں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلاتی ہوئی اسے نظر آتی ہے اس لئے وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔انسان کھانا کھاتا ہے جس شخص نے اسے گندم دی اور اس نے اس سے روٹی بنائی وہ اس کا شکریہ اد اکرتاہے یا جس کی نوکری کر کے اس نے پیسے کمائے اور ان سے اس نے گندم خریدی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔جس ماں اور بیوی نے اسے روٹی پکا کر کھلائی وہ ان کا شکریہ اد اکرتاہے۔لیکن جس نے گندم بنائی۔جس نے نمک بنایا جس نے پانی بنایا وہ اس کا شکریہ ادا نہیں کرتا اس لئے کہ گندم مہیا کرنے والا یا ملازمت دینے والا اسے نظر آتا تھا۔ماں اسے نظر آتی تھی کہ وہ گرمی کے دنوں میں آگ کے آگے بیٹھی روٹی پکا رہی ہے یا سردی میں جب وہ خودلحاف سے باہر نہیں نکلتا وہ صحن میں بیٹھی اس کے لئے ناشتہ تیا رکر رہی ہے چونکہ وہ اسے نظر آتی ہے اس لئے اس کے اندر احساسِ شکریہ پیدا ہوجاتا ہے۔لیکن چونکہ اسے اس احسان کا اصلی بانی نظر نہیںآتا اس لئے اسے یہ خیال نہیں آتا کہ دراصل یہ احسان کسی اور ذات نے کیا ہے۔ہمارے ملک میں لطیفہ مشہور ہے۔واللہ اعلم وہ سچاہے یا عام حالات میں وہ خود بنا لیا گیا ہے۔جب ہمارے ملک پر انگریز حاکم تھے۔لوگوں میں انہیں خوش کرنے کےلئے ڈالیاں پیش کرنے کا رواج تھا۔بعد میں اگرچہ یہ قانون بنا دیا گیا تھا کہ افسروں کو ڈالیاں پیش نہ کی جائیں لیکن حکام اور روسائے شہر کو جب موقعہ ملتا اوروہ انگریز افسروں کو ملنے کے لئے جاتے تو ان میں سے بعض ہوشیار لوگ ڈالیاں بھی لے جاتے تھے۔کہتے ہیں کہ ایک انگریز افسر کو ایک ای۔اے۔سی اور ایک تحصیلدار ملنے کے لئے گئے ای۔اے۔سی ڈالی بھی ساتھ لے گیا۔یہ تو سارے جانتے ہیں کہ ای۔اے۔سی بڑا ہوتا ہے اور تحصیلدار چھوٹا ہوتاہے۔کئی علاقوں کا چارج ہی ای۔اے۔سی کے پاس