تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 428
دین کو نہیں چھوڑسکتا(السیرة الحلبیة ذکر وفاة عمہ ابی طالب و زوجتہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة)۔گویاان کواپنی قوم سے اتنی محبت تھی کہ وہ اس کے بغیرجنت میںبھی جانانہ چاہتے تھے۔مگر اپنی قوم سے اس قد ر محبت رکھنے والے شخص پررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کے بہادرانہ جواب کایہ اثر ہوا کہ اس نے کہہ دیاکہ اچھااگر قوم مجھے چھوڑتی ہے تو چھوڑدے میںتم کونہیںچھوڑوںگا۔جو زیفس مشہور یہودی مؤرخ پُرانی کتب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتاہے کہ ابراہیم ؑ پہلے آدمی تھے جنہوں نے دلیری سے خدا کے خالق ہونے اور ایک ہونے کا اعلان کیا۔اور کہا کہ سب ستارے خدا کے قبضہ میں ہیںاور اُسی کے حکم کے ماتحت حرکت کرتے ہیں۔چونکہ اُن کی قوم ستارہ پرست تھی اُن کی ستارہ پرستی کی مخالفت نے چلڈ نیز کا غصہ بھڑکادیا اور اُن کو اپنا ملک چھوڑ کرکنعان جانا پڑا۔کہتے ہیں کہ جب آپ چودہ برس کے تھے تو ستاروں اور بتوں کی پرستش سے بچنے کے لئے آپ نے اپنے باپ کو چھوڑدیا اور خدا سے دُعا کی کہ وہ اُن کو انسانوں کی غلطیوں سے بچائے۔یہ بھی لکھا ہےکہ حضرت ابراہیم ؑ نے زراعت کے بعض عمدہ طریق ایجاد کئے اور انہوں نے اپنے باپ تارہ کو توحید کی تعلیم دی مگر وہ لوگوں سے ڈرتا تھا اور اُس نے ان کو خاموش رہنے کو کہا۔جب حضرت ابراہیم ؑ کے بھائی بھی اُن کے مخالف ہوگئے تو انہوںنے بت خانہ کو آگ لگا دی اور اُن کے بچانے کی کوشش میں اُن کا بھائی ہاران جل مرا(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لکڑی کے بت تھے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے تلوار سے اُن کو کاٹ دیا تھا) لکھا ہے کہ نئے سال کے چاند کو ایک دفعہ دیکھ رہے تھے تاکہ آئندہ سال کی فراخی کو معلوم کریں کہ ان کو الہام ہوا کہ خدا کی مرضی کے مقابلہ میں ستاروں کااثر کیا حقیقت رکھتا ہے۔آخر بہت دُعاؤں کے بعد آپ نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔تاکہ اعلیٰ صداقتوں کو دنیا میں قائم کریں۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سال کی عمر میں ان کو سچا علم ملا۔بعض میں دس اور بعض میں چالیس لکھا ہے۔فلسطینی ربّیوں کے لٹریچر میں آپ کے متعلق بہت سی تفاصیل دی گئی ہیں اور آپ کے زمانہ کے بادشاہ کا نام نمرودؔ بتایاگیا ہے اور چاند ستاروں کا واقعہ یوں لکھا ہے کہ تارہؔ نے نمرود ؔ سے ڈر کر جو اُن کے بیٹے کو مارنا چاہتا تھا (کیونکہ نجومیوں نے اُسے بتایا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو تیری حکومت کو تباہ کردے گا ) تین سال تک حضرت ابراہیم ؑ کوچھپائے رکھا۔جب وہ بھورے سے باہر نکلے تو سورج کو دیکھ کر انہوں نے خدا سمجھا۔جب سورج ڈوبا تو چاند کو خدا اور ستاروں کو اس کا نوکر سمجھا۔جب صبح ہوئی تو دونوں سے انکار کرکے کہا کہ خدا کوئی اور ہو گا۔اس پر ابراہیم ؑ نے باپ سے پوچھا۔آسمان و زمین کس نے پید ا کئے ہیں۔اُس نے جواب میں کہا کہ یہ بت جو سامنے ہے یہ ہمار ا