تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 427
لگے کہ دیکھوہمارے پاس مولوی لوگ فتویٰ کے لئے آئے تھے مگر ہم نے انکار کردیاکہ ہم کو ان باتوں سے کیاتعلق ہے۔ہمیں سب نے سلام کرناہوا۔یہ واقعہ شہر میں پھیل گیااور پیرصاحب کے مرید اس تحریک سے الگ ہوگئے اور مخالفت کازور ٹوٹ گیا۔غرض ابوطالب کے لئے یہ بڑاامتحان تھا۔وہ سارے شہر میں مکرّم سمجھے جاتے تھے اور ایسامعلوم ہوتاتھا کہ اب ان کی عزّت جاتی رہے گی۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کو بلوایااور کہاکہ اے میرے بھتیجے میں سمجھتاہوں کہ توجو کچھ کرتاہے سچ سمجھ کرکرتاہے اور میں نے بھی ہمیشہ تیری مدد کی ہے اور تجھے دشمنوں سے بچایاہے مگراب میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہاہے کہ یاتو اپنے بھتیجے سے کہو کہ تبلیغ میں نرمی کرے اوریاپھر اس سے قطع تعلق کرلواور اگرمیںایسانہ کروں توقوم میرے ساتھ قطع تعلق کرلے گی اور تُو جانتاہے کہ قوم کامقابلہ مشکل ہوتاہے۔اب تو بتاتیری کیارائے ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے جس وقت یہ بات سنی۔آپ ؐ کی آنکھوں میںآنسو بھرآئے اورآپ ؐ نے فرمایا۔اے میرے چچا۔میرے دل میں آپ کابڑاادب ہے۔مگرسچائی کے مقابلہ میں میں آپ کی بات ماننے کو تیارنہیں ہوں۔اگردشمن میرے دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند لاکرکھڑاکردیںتب بھی میں تبلیغ میں نرمی نہیںکروں گا۔اور توحیدکی اشاعت سے بازنہیںرہوں گا۔میںآپ کے لئے ہرقربانی کرنے کو تیارہوں لیکن یہ بات آپ کی نہیںمان سکتا۔آپ مجھے میرے حال پر چھوڑدیں اور اپنی قوم سے صلح کرلیں۔میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔اس پرباوجود اس کے کہ ابوطالب کے لئے قوم کاچھوڑنا مشکل تھا اس دلیرانہ جواب کوسن کران پرایسااثر ہواکہ انہوں نے کہا کہ اگر قوم مجھے چھوڑتی ہے تو بیشک چھوڑ دے میںتجھے نہیں چھوڑوں گا(السیرة النبویۃ لابن ہشام مباداة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قومہ وما کان منھم)۔ابوطالب کے اس جواب کی اہمیت کا پورا اندازہ وہ لوگ نہیں لگاسکتے جو تاریخ سے ناوقف ہونے کی وجہ سے ایک اور واقعہ کونہیںجانتے جس سے ابوطالب کی قلبی کیفیت کاپتہ چلتاہے اور یہ معلوم ہوتاہے کہ انہیںاپنی قوم سے کتنی محبت تھی۔جب ان کی وفات کا وقت قریب آیاتوچونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان سے بہت ہی محبت تھی۔ان کی قربانیوںاور حسن سلوک کی وجہ سے آپ ؐ کو اس بات سے سخت دکھ ہوا کہ آپ مسلمان ہوئے بغیر مررہے ہیں۔آپ کبھی ان کے دائیں جاتے اور کبھی بائیںاورکہتے کہ اے چچا اب موت کا وقت قریب ہے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَدٌّرَسُوْلُ اللّٰہِ کہہ دیجیئے مگر ابوطالب خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے بہت اصرار کیا۔آپ ؐ پر رقّت طاری تھی۔اورآپ ؐ باربار کہتے تھے کہ اے چچا ایک دفعہ کلمہ پڑھ لیں تاکہ میں خداکے حضور کہہ سکوں کہ آپ نے اسلام قبول کرلیاتھالیکن ابوطالب نے آخر میںیہی جواب دیاکہ میںاپنی قوم کے