تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 426

بھی تیار نہیںہیںتو گو ہمارے دلوں میں آپ کابہت ادب ہے اور آپ کے خاندان کوفضیلت حاصل ہے لیکن اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیاہے کہ ہم صبرنہیں کرسکتے اور آپ سے بھی ہمیں مجبوراً قطع تعلّق کرنا پڑے گا۔ابوطالب مومن نہ تھے اور ایمان کے بعد جو بہادری انسانی قلب میں پیداہوجاتی ہے اس سے محروم تھے۔وہ رئیس تھے اور ان کے نزدیک سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ریاست سے ہاتھ دھوبیٹھنے کاخطرہ ان کے سامنے تھا۔سارامکّہ ان کو سلام کرتاتھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کاساتھ نہ چھوڑنے کایہ نتیجہ ہوسکتاتھا۔کہ کوئی ان کو منہ بھی نہ لگاتا۔اوریہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس قسم کی عزتوں کے لئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں بھی کردیتے ہیں او ر ایک ایک سلام کے لئے مراکرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سنایاکرتے تھے کہ جب آپ تعلیم سے فارغ ہوکرنئے نئے بھیرہ میں آئے تو بعض مولویوں نے شورمچانا شروع کردیاکہ یہ وہابی ہیں اور بعض نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے کی تحریک شروع کردی۔اس وقت اس علاقہ میںایک معزز پیر صاحب تھے جن کا بھیرہ اور اس کے نواح میں بہت اثر تھا۔فتویٰ کفر شائع کرنے والے ان کے پاس بھی گئے کہ دستخط کردیں۔باقی مولویوں سے تو حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے دوست نہ ڈرتے تھے مگران پیر صاحب کے متعلق انہیں ضرور خیال تھا کہ اگر یہ بھی مولویوں کے ساتھ مل گئے تو فساد بڑھ جائےگا اس لئے آپ کے دوستوں میں سے ایک زیرک دوست پیر صاحب کے پا س پہنچے اورکہا۔سناہے مولوی لوگ آ پ سے فتویٰ لینے آئے تھے۔پیرصاحب نے کہاکہ ہاں آئے تھے او ر جوباتیں وہ کہتے تھے ٹھیک ہیں اورمیراارادہ ہے کہ فتویٰ دے دوں۔اس پر اس دوست نے کہاکہ آ پ تو پیر ہیں اور سب نے آپ کو سلام کرناہے۔نورالدین خواہ کچھ ہو۔آپ کوسلام تو ضرور کرتاہے اور اگر آپ نے فتویٰ دے دیاتو وہ اور ان کے دوست آئندہ آپ کو سلام نہیں کریں گے۔اس پرپیر صاحب گھبراگئے اورکہنے لگے۔بھلا ہم پیروں کافتووں سے کیاتعلق۔آپ مولوی صاحب سے کہہ دیں کہ سلام نہ چھوڑیں۔اس دوست نے آ کرحضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے کہاکہ میں اس طرح کرآیاہوں اور اب پیرصاحب چاہیں گے کہ آپ ان کوسلام کریں۔آپ نے فرمایاہماراکیاحرج ہے کردیںگے۔چنانچہ وہ دوست پھر پیرصاحب کے پاس گئے۔اور پیرصاحب سے کہاکہ مولوی صاحب کہتے ہیںکہ پیرصاحب بڑے آدمی ہیں ہم ان کو سلام کیوں نہ کریں گے۔اس پرپیرصاحب بہت خو ش ہوئے اور کہنے لگے کہ اچھاہم فلاں روز اس طرف سے گذریںگے۔مولوی صاحب سے کہنا کہ ضرورسلام کریں۔چنانچہ پیرصاحب مولوی صاحب ؓ کے مطب کے سامنے سے گذر ے اور حضرت مولوی صاحب ؓ نے اپنے دوستوں سمیت باہرنکل کران کوسلام کیا۔پیرصاحب نے گھوڑا کھڑاکرلیااور حضرت مولوی صاحب سے باتیں کرنے