تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 425

طبعی سعادت جوانی کاپختہ عقیدہ بن گئی۔اور آخر اللہ تعالیٰ کا نور ذہنی نورپر گرکر الہام کی روشنی پیدا کرنے کاموجب ہوگیا۔اور خدا تعالیٰ ے آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے نبوت کے مقام پر سرفراز فرما دیا۔چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تمام خاندان کا گزارہ ہی بتوں کی فروخت پرتھا اور تارہؔ خود بت پرست تھا جیسا کہ بائیبل کی کتاب یشوعؔ باب ۲۴آیت ۲سے ثابت ہوتا ہے اس لئے اُن کے چچا اور چچازاد بھائیوں نے ان کو مشورہ دیا کہ ہم پروہت ہیں اور ہمارا گزارہ ہی اس پر ہے۔اگر تم نے بتوں کی پرستش نہ کی تو ہمارا رزق بند ہوجائے گا۔مگر آپ نے نہایت دلیری سے جواب دیا کہ جن بتوں کو انسان اپنے ہاتھ سے گھڑتاہے ان کو میں ہرگز سجدہ نہیں کرسکتا۔اس جواب کی اہمیت کااندازہ ہرشخص نہیں کرسکتاصرف وہی کرسکتاہے جسے قربانی کرنے کاموقع ملاہو۔آج جب کہ منظم حکومتیں دنیامیں موجود ہیں اس پرامن زمانہ میں بھی میں نے دیکھاہے کہ بعض لوگوں پر جب صداقت کھل جاتی ہے تووہ مجھے لکھتے ہیںکہ اگر ہم احمدی ہوجائیںتو ہمارے گذارہ کی کیاصورت ہوگی ؟ہمارے ساتھ ہمدردی کی کیاصورت ہوگی ؟ آج جب احمدیت کو قبول کرنے میں کوئی خاص تکالیف نہیں ہیں سوائے معمولی تکالیف کے۔اچھے اچھے تعلیم یافتہ بڑی عمر کے اور بیوی بچوں والے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمدردی کی کیاصورت ہوگی گذارہ کاکیاانتظام ہوگا؟لیکن حضرت ابراہیم ؑ جو یتیم ہونے کی وجہ سے پہلے ہی شکستہ دل تھے اورجن کاپہلے ہی کوئی ٹھکانہ نہ تھااپنے چچاکے ہاں اوراس کی مہربانی سے پرورش پارہے تھے وہ اپنے دل سے یہ سوال نہیں کرتے کہ اب گذارہ کی کیاصورت ہوگی ؟بلکہ بلا سوچے بہادرانہ طو ر پر یہ جواب دیتے ہیں کہ جن بتوں کوانسان خود گھڑتے ہیں ان کومیں سجدہ نہیں کرسکتا۔بعینہ اسی قسم کاواقعہ رسول کریم ﷺ کوبھی پیش آیا۔جب ایک لمبے عرصہ تک آپؐ نے شرک کے خلاف تعلیم دی اور ایک لمبی کوشش کے بعد اہل مکہ آپؐ کو اور آپ کے صحابہ ؓ کو دوبارہ اپنے دین میں شامل کرلینے سے مایوس ہوگئے تو مکہ کے رئوساء آپ ؐ کے چچا ابوطالب کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کی خاطر ہم اب تک آپ کے بھتیجے سے نرمی کرتے رہے ہیں مگر ہمارے سایہ کے نیچے رہتے ہوئے اس نوجوان نے ہمارے معبودوں کو بہت بری طرح ذلیل کیاہے ہم اس پر سختی کرسکتے تھے مگر ہمیں آپ کا لحاظ تھا۔اس لئے ہم نے اس سے وہ سلوک نہ کیاجس کا وہ مستحق تھا۔مگراب یہ بات ہمارے لئے ناقابل برداشت ہوگئی ہے اور ہم یہ آخری پیغام لے کرآپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ اسے سمجھائیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنی تعلیم پیش نہ کرے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں پر سختی سے حملہ نہ کرے اور تبلیغ میں نرمی کاپہلورکھے اور اگروہ آپ کے کہنے سے اتنابھی کرنے کے لئے تیارنہ ہو تو آپ اس سے قطع تعلق کرلیں اور ہم پر اس کامعاملہ چھوڑدیں۔اور اگر آپ اس کے لئے