تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 420

اور سمندر کو پیچھے ہٹاکراسے خشک زمین بنادیااو رپانی دو حصے ہوگیااور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا۔اور مصریوں نے تعاقب کیااور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ اور سوار ان کے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے۔اور رات کے پچھلے پہر خداوند نے آگ اور بادل کے ستون میں سےمصریوں کے لشکر پر نظرکی اور ان کے لشکر کو گھبرادیااور ا س نے ان کے رتھو ں کے پہیوں کو نکال ڈالا۔سو ان کاچلانامشکل ہوگیا۔تب مصری کہنے لگے آئو ہم اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگیں کیونکہ خداوند اُن کی طرف سے مصریوں کے ساتھ جنگ کرتاہے۔اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور اُن کے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے۔اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصلی قوت پر آگیا اور مصری اُلٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہہ و بالا کردیا اور پانی پلٹ کر آیا اور اُس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا غرق کردیا اور ایک بھی اُن میں سے باقی نہ چھوڑا۔پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میںسے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور پانی ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ دیوار کی طرح رہا۔سو خداوند نے اس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے اِس طرح بچایا اور اسرائیلیوں نے مصریوں کو سمند ر کے کنارے مرے ہوئے پڑے دیکھا اور اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اور اُس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔‘‘ (خروج باب ۴ اآیت ۲۱ تا ۳۱) پرانے مفسرین نے اس موقع پر بعض عجیب و غریب قصے بیان کئے ہیں۔چنانچہ وہ فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب سونٹا مارا تو سمندر بارہ جگہ سے پھٹ گیا۔تاکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل اس میں سے علیحدہ علیحدہ گزرجائیں۔(تفسیر فتح البیان زیر آیت ھذا)پھر بعض نے اور زیادہ مبالغہ سے کام لیا ہے۔اور لکھا ہے کہ چونکہ ہر فریق کے درمیان پانی کی ایک دیوار حائل تھی اور بنی اسرائیل ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھیں گے اُس وقت تک ہم ایک قدم بھی آگے نہیں چلیں گے۔اس پرموسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔